Tafseer-e-Madani - Saad : 19
وَ الطَّیْرَ مَحْشُوْرَةً١ؕ كُلٌّ لَّهٗۤ اَوَّابٌ
وَالطَّيْرَ : اور پرندے مَحْشُوْرَةً ۭ : اکٹھے کیے ہوئے كُلٌّ : سب لَّهٗٓ : اس کی طرف اَوَّابٌ : رجوع کرنے والے
اور پرندوں کو بھی جو سمٹ آتے تھے یہ سب اسی (اللہ) کی طرف رجوع کرنے والے تھے
23 حضرت داؤد کی شان اوابیت کا ایک نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یقینا ہم نے مسخر کردیا تھا انکے ساتھ پہاڑوں کو "۔ یعنی یہ شرف و معجزہ ہم نے آپ کو بخشا اور عطا فرمایا تھا۔ آپ کے اپنے اختیار میں نہ تھا۔ معلوم ہوا کہ معجزہ پیغمبر کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتا۔ بہرکیف حضرت داؤد کو اس خاص معجزہ سے نوازا گیا تھا کہ آپ (علیہ السلام) جب اپنے خاص لحن میں زبور کی تلاوت کرتے تو پہاڑ بھی آپکے ہمنوا ہوجاتے اور آپ کے ساتھ مل کر اللہ کی تسبیح و تقدیس میں لگ جاتے۔ اور پہاڑوں کی یہ تسبیح صرف زبان حال سے نہیں بلکہ زبان قال سے تھی۔ کیونکہ زبان حال سے تو ہر چیز تسبیح کرتی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ۔ { وَاِنْ مِنْ شَیْ ئٍ الاَّ یُسَبِّحُ بِحَمْدِہ وَلٰکِن لاَّ تَفْقَہُوْنَ تَسْبِیْحَہُمْ } ۔ (بنی اسرائیل : 44) ۔ نیز اس لیے کہ تسبیح حالی تو ہمیشہ ہوتی ہے کسی وقت کے ساتھ مختص نہیں ہوتی جبکہ یہاں پر " عشی " اور " اشراق " کی قید موجود ہے۔ اس لیے پہاڑوں کی یہ تسبیح زبان قال سے تھی۔ (روح، صفوہ اور جامع وغیرہ) ۔ بہرکیف اس ارشاد سے حضرت داؤد کی شان اوابیت کا ایک نمونہ و مظہر پیش فرمایا گیا ہے کہ آپ شام اور صبح دامن کوہ میں بیٹھ کر اپنے مخصوص انداز میں اپنے رب کی تسبیح کرتے اور اپنے ضرب المثل لحن داؤدی میں مزامیر زبور کے نغمے چھیڑتے تو پہاڑ بھی آپ کی ہمنوائی کرتے اور پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ فضا میں جمع ہو کر آنجناب کے سر میں سر ملا دیتے۔ جس سے سوز و گداز اور تاثر و تاثیر کا ایک بےمثال کیف آور سماں بندھ جاتا۔ دشت و جبل، چرند و پرند اور گرد و پیش کی ساری چیزیں آپ کی شریک بزم ہوجاتیں۔ 24 سب ہی شان اوابیت کے نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ سب ہی اللہ کی طرف رجوع کرنے والے تھے "۔ چناچہ روایات کے مطابق جب آنجناب زبور کی تلاوت کرتے تو ہوا میں اڑتے پرندے وہیں رک جاتے اور آپ کے ساتھ محو تلاوت ہوجاتے۔ اور اسی طرح پہاڑ بھی۔ (ابن جریر، ابن کثیر، قرطبی وغیرہ) ۔ اور یہ سب کچھ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی قدرت و عنایت سے تھا اور وہ جو چاہے کرے کہ اس کی شان ۔ { عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْر } ۔ کی شان ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اس نے پہاڑوں اور پرندوں کو اسکا حکم دے رکھا تھا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَلَقَدْ آتَیْنَا دَاؤدَ مِنَّا فَضْلاً یَّا جِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَہُ وَالطَّیْر } ۔ (سبا : 10) ۔ سو یہ سب جبال و طیور حضرت داؤد کے ساتھ مل کر سب ہی اللہ کی طرف رجوع کرتے اور اس کے ذکر اور اس کی یاد دلشاد میں مشغول ہوجاتے۔ جیسا کہ ابھی اوپر کے حاشیے میں بھی گزرا اور جیسا کہ سورة بنی اسرائیل کی آیت نمبر 43-44 میں اس امر کی تصریح فرمائی گئی ہے کہ کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے لیکن ہم ان کی تسبیح سمجھ نہیں سکتے۔ لیکن ہمارے نہ سمجھنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ کوئی بھی ان چیزوں کی تسبیح کو نہیں سمجھتا۔ حضرت داؤد کو جس طرح اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو موم کردینے والا اور پرندوں کو جذب کرلینے والا سوز و لحن بخشا تھا اسی طرح آنجناب کو ان گوش شنوا سے بھی سرفراز فرمایا گیا تھا جن سے آپ ان مختلف چیزوں کی تسبیح و مناجات کو سمجھ سکیں۔ جیسا کہ قرآن حکیم کے دوسرے مختلف مقامات سے بھی اس کا پتہ چلتا ہے ۔ فسبحان اللہ وبحمدہ و سبحان اللہ العظیم ۔ سو حضرت داؤد کے اس سوز و گداز کی بنا پر آپ کے گرد و پیش کی سب ہی چیزیں اوابیت کے رنگ میں رنگی جاتیں اور سب ہی پر اوابیت کی ایک بےمثال چادر تن جاتی اور سب ہی کچھ اوابیت کا مظہر بن جاتا ۔ علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام -
Top