Tafseer-e-Madani - Saad : 2
بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ عِزَّةٍ وَّ شِقَاقٍ
بَلِ : بلکہ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا : جن لوگوں نے کفر کیا (کافر) فِيْ عِزَّةٍ : گھمنڈ میں وَّشِقَاقٍ : اور مخالفت
(اس میں کسی شک کی کوئی گنجائش نہیں) مگر جو لوگ اڑے ہوئے ہیں اپنے کفر (و باطل) پر وہ تکبر اور ضد (وعناد کی دلدل) میں پڑے ہیں
2 عناد و استکبار محرومیوں کی محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اس کتاب حکیم میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں مگر جو لوگ اڑے ہوئے ہیں اپنے کفر و باطل پر وہ تکبر اور ضد میں پڑے ہوئے ہیں۔ جس کے نتیجے میں وہ دولت ایمان سے محروم ہیں۔ سو قرآن حکیم کے اگر اسی ایک وصف کو دیکھا جائے یعنی اس کی شان ذکر کو تو اس کی تکذیب اور اس کے انکار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ لیکن منکرین نے جب آنکھوں پر ضد وعناد اور تعصب و ہٹ دھرمی کی سیاہ پٹی باندھ رکھی ہو تو پھر ان کو راہ حق و ہدایت نظر آئے تو کس طرح اور کیونکر ؟ کہ ہٹ دھرمی کا تو کوئی علاج ہی نہیں۔ سو قرآن حکیم جن حقائق کی دعوت دیتا ہے وہ تو قطعی طور پر حق اور سچ ہیں مگر کافر لوگ اپنے عناد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس پر ایمان نہیں لا رہے۔ پس عناد و استکبار اور ضد و ہٹ دھرمی محرومیوں کی محرومی اور خرابی کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ان کی محرومی کی وجہ یہ نہیں کہ قرآن کی تذکیر میں کوئی کسر ہے بلکہ ان کی محرومی کی اصل وجہ یہ ہے کہ یہ منکر لوگ کبر و غرور گھمنڈ اور عناد میں مبتلا ہیں۔ سو خرابی قرآن میں نہیں بلکہ خود ان ہٹ دھرم لوگوں کے اندر ہے۔ قرآن اور اس کی دعوت تو ہر لحاظ سے صاف وصریح، مدلل و مبرہن اور موثر و دل پذیر ہے لیکن انانیت اور ہٹ دھرمی کے ماروں کے فساد باطن کی بنا پر حق و ہدایت کی یہ آواز انکے دلوں تک نہیں پہنچ سکتی اور اس کی تذکیر ان پر کارگر نہیں ہوسکتی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو بندی کے لائق عبدیت وانابت الی اللہ ہے نہ کہ کبر و غرور۔ عبدیت وانابت کے اندر کمال پیدا کرنے ہی میں اس کی بہتری اور بھلائی ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Top