Tafseer-e-Madani - Saad : 27
وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا بَاطِلًا١ؕ ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنَ النَّارِؕ
وَ : اور مَا خَلَقْنَا : نہیں پیدا کیا ہم نے السَّمَآءَ : اور زمین وَالْاَرْضَ : اور زمین وَمَا : اور جو بَيْنَهُمَا : ان کے درمیان بَاطِلًا ۭ : باطل ذٰلِكَ : یہ ظَنُّ : گمان الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۚ : جن لوگوں نے کفر کیا فَوَيْلٌ : پس خرابی ہے لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا : ان کے لیے جنہوں نے کفر کیا (کافر) مِنَ : سے النَّارِ : آگ
اور ہم نہیں پیدا کیا آسمان و زمین اور ان دونوں کے درمیان کی اس حکمتوں بھری کائنات کو بیکار (و بےمقصد) یہ گمان (باطل اور زعم فاسد) تو ان لوگوں کا ہے جو اڑے ہوئے ہیں اپنے کفر (و باطل) پر سو بڑی ہی خرابی اور ہلاکت ہے ایسے کافروں کے لیے دوزخ (کے عذاب) سے1
39 درسگاہِ کائنات سے درس عبرت و بصیرت لینے کی ہدایت : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ آسمان اور زمین کی یہ کائنات بےمقصد نہیں ہوسکتی۔ اور یہ عقل ونقل کا تقاضا ہے کہ جب ایک عام اور معمولی قسم کی چیز بھی یہاں بےمقصد اور بیکار نہیں ہوسکتی تو پھر اس قدر حکمتوں بھری اور عجائب وغرائب سے لبریز و معمور یہ اتھاہ کائنات کیسے اور کیونکر بےمقصد اور بےکار ہوسکتی ہے ؟ اور اس کی بیشمار حکمتوں میں سب سے بڑی اور اہم حکمت یہ ہے کہ انسان اس میں غور و فکر سے کام لے کر اپنے خالق ومالک کی معرفت حاصل کرے اور اس کی پیدا کردہ اس کائنات سے بیشمار فائدے اٹھا کر دل و جان سے اس خالق ومالک کے حضور جھک جائے۔ اور زندگی اسی کے حکم کے مطابق گزارے۔ اور اس طرح وہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ومالا مال ہوجائے۔ بالفاظ دیگر یہ سب کائنات انسان کے لئے ہے اور خود حضرت انسان اپنے رب کی معرفت اور اس کی عبادت و بندگی کے لئے ۔ { وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ الِّا لِیَعْبُدُوْنَ } ۔ (الذاریات : 56) اور اس کی اس پر حکمت تخلیق کا تقاضا ہے کہ ایک یوم حساب ہو۔ تاکہ ہر کسی کو اس کے زندگی بھر کے کیے کرائے کا پورا پورا صلہ و بدلہ ملے اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں اور علی وجہ الکمال والتمام پورے ہو سکیں۔ سو وہی ہے قیامت کا دن جو کہ بدلے اور جزا کا دن ہے۔ سو اس طرح کائنات کی اس عظیم الشان درسگاہ میں ہر طرف پھیلے بکھرے نشانہائے قدرت میں بڑے عظیم الشان دلائل ہیں اللہ تعالیٰ کی توحید و وحدانیت کے۔ اس کی وحی و رسالت اور اس کے رسولوں کی حقانیت و صداقت کے اور قیامت کے یوم حساب کی ضرورت و امکان کے۔ ان لوگوں کے لیے جو صحیح طور پر غور و فکر سے کام لیتے ہیں ۔ { اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لآیٰاتٍ لِقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ } ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل - 40 کائنات کی تخلیق کو بےمقصد سمجھنا کافروں کا کام ۔ والعیاذ باللہ : یعنی حکمتوں سے بھری اس کائنات کی تخلیق اور اس کے وجود کو بےمقصد سمجھنا کافروں اور باطل پرستوں کا کام ہے ۔ والعیاذ باللہ۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ کائنات کی تخلیق اور اس کے وجود کو بےمقصد سمجھنا کافروں کا زعم باطل ہے اور اس کے نتائج بہت برے اور بڑے ہولناک ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ خواہ وہ معروف معنوں میں اور عام اور کھلے کافر ہوں اور خواہ وہ ایسے نام نہاد مدعی ایمان ہوں جو اپنے دعوائے ایمان کے باوجود اپنے قول و فعل سے حق کی تکذیب کرتے ہوں اور ان کے رنگ ڈھنگ سب کافروں کے سے ہوں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایسے کافر و منکر لوگ جو آسمان و زمین کی اس حکمتوں بھری کائنات کی تخلیق کو بےمقصد سمجھتے ہیں وہ اس زعم باطل میں مبتلا ہیں کہ یہ دنیاوی زندگی اور اس کے وقتی فوائد و منافع اور اس کی عارضی وفانی لذتیں ہی سب کچھ ہیں جس نے انکو پالیا وہ کامیاب ہوگیا۔ نہیں تو ناکام رہا۔ اس لیے انکے یہاں نیکی و بدی اور خیر و شر کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ اس لیے وہ آخرت کی بازپرس اور وہاں کی جوابدہی سے غافل و لاپروا ہو کر اپنی متاع حیات کو یونہی ضائع کر رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں وہ دوزخ کی ہولناک آگ کی طرف بڑھے چلے جا رہے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ یہ خساروں کا خسارہ ہے اور ایسا خسارہ جس کی تلافی اور تدارک کی پھر کوئی صورت ممکن نہیں ہوگی ۔ اللہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ۔ والعیاذ باللہ العزیز الغفار جل وعلا -
Top