Tafseer-e-Madani - Saad : 28
اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ كَالْفُجَّارِ
اَمْ : کیا نَجْعَلُ : ہم کردیں گے الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : جو لوگ ایمان لائے وَعَمِلُوا : اور انہوں نے عمل کیے الصّٰلِحٰتِ : اچھے كَالْمُفْسِدِيْنَ : ان کی طرح جو فساد پھیلاتے ہیں فِي الْاَرْضِ ۡ : زمین میں اَمْ : کیا نَجْعَلُ : ہم کردیں گے الْمُتَّقِيْنَ : پرہیزگاروں كَالْفُجَّارِ : فاجروں (بدکرداروں) کی طرح
کیا ہم ان لوگوں کو جنہوں نے ایمان لا کر نیک کام کئے ہوں گے ان کی طرح کردیں گے جو فساد مچانے والے ہیں ہماری زمین میں یا ہم پرہیزگاروں کو کردیں گے بدکاروں کی طرح ؟
41 قیام قیامت لازمی اور ضروری ہے : سو ضرورت قیامت کے اثبات کے لیے ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا ہم پرہیزگاروں کو بدکاروں کی طرح کردیں گے "۔ اور جب ایسا نہیں اور ہرگز اور یقینا ایسے نہیں ہوسکتا تو پھر قیامت کا قائم ہونا ضروری اور لازمی ہے۔ اور یہ عقل اور نقل دونوں کا بدیہی تقاضا ہے۔ کیونکہ اس دنیا میں جو کہ دراصل ایک ابتلاء و آزمائش کی جگہ ہے اس میں ان دونوں گروہوں کا امتیاز ثمرات و نتائج کے اعتبار سے ظاہر نہیں ہو رہا تو یقینا اور لازماً ایک ایسا دن ہوگا اور ضرور ہونا چاہیئے جس میں ہر کوئی اپنے کئے کرائے کا بھرپور بدلہ پائے تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے بھرپور طریقے سے پورے ہوں اور نیکی و بدی کا فرق و امتیاز اپنے انجام و نتائج کے اعتبار سے ظاہر ہو سکے۔ سو وہی دن ہے قیامت کا دن جس نے بہرحال آ کر رہنا ہے اپنے وقت مقرر پر۔ اسی کو " یوم الدین " اور " یوم الفصل " کہا جاتا ہے۔ اور وہ اس حکمتوں بھری کائنات کا طبعی تقاضا اور لازمی نتیجہ ہے۔ ورنہ اس کائنات پوری کا وجود عبث اور بیکار قرار پاتا ہے جو تقاضائے حکمت کے خلاف ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Top