Tafseer-e-Madani - Saad : 29
كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ
كِتٰبٌ : ایک کتاب اَنْزَلْنٰهُ : ہم نے اسے نازل کیا اِلَيْكَ : آپ کی طرف مُبٰرَكٌ : مبارک لِّيَدَّبَّرُوْٓا : تاکہ وہ غور کریں اٰيٰتِهٖ : اس کی آیات وَلِيَتَذَكَّرَ : اور تاکہ نصیحت پکڑیں اُولُوا الْاَلْبَابِ : عقل والے
یہ ایک عظیم الشان اور برکتوں بھری کتاب ہے جسے ہم نے اتارا ہے آپ ﷺ کی طرف (اے پیغمبر ! ) تاکہ یہ لوگ غور و فکر سے کام لیں اس کی آیتوں میں اور تاکہ یہ سبق لیں (اور نصیحت حاصل کریں) عقل سلیم رکھنے والے
42 قرآن حکیم ایک عظیم الشان اور برکتوں بھری کتاب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ ایک عظیم الشان اور برکتوں بھری کتاب ہے "۔ جس کی خیر و برکت کی نہ کوئی حد ہے نہ انتہا۔ اور جو انسان کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی کی کفیل وضامن کتاب ہے۔ پس تم سب اے لوگو ! اپنی زندگی سنوارنے اور اپنی دنیا و آخرت بنانے کے لئے اس کتاب حکیم کی ہدایات اور مقدس تعلیمات کو دل و جان سے اپناؤ کہ اسی میں تمہارے لئے دارین کی فوز و فلاح کا سامان ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو اس کتاب حکیم کو ہم نے اتارا ہے۔ یہ دلوں کی زندگی اور بصیرت و بصارت کا نور ہے۔ اور اس کو اتارا اس لیے گیا ہے کہ عقل سلیم رکھنے والے اس کی آیتوں میں غور کریں اور اس سے سبق لیں۔ بہرکیف پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ اس برکتوں بھری عظیم الشان کتاب کو ہم نے آپ کی طرف اتارا تاکہ وہ لوگ جو عقل سلیم رکھتے ہیں وہ اس کی آیتوں میں غور و فکر سے کام لیں تاکہ اس کے نتیجے میں وہ گوہرہائے مقصود سے فیضیاب ہو سکیں۔ اور تاکہ وہ یاددہانی حاصل کریں اور تاکہ وہ اپنے انجام کے لیے فکر اور تیاری کرسکیں اور دائمی خسارے اور انتہائی ہولناک ہلاکت و تباہی سے بچ سکیں ۔ وباللہ التوفیق - 43 قرآن حکیم خالص اتاری ہوئی کتاب ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس کو ہم ہی نے اتارا ہے آپ کی طرف ۔ اے پیغمبر !- "۔ یعنی یہ کوئی انسانی تصنیف نہیں اور نہ ہی اس میں کسی انسانی فکر و کاوش کا ذرہ برابر کوئی عمل دخل ہے۔ بلکہ یہ سراسر کائنات کے خالق ومالک کی طرف سے اتاری ہوئی آسمانی کتاب ہے۔ پس اس جیسی دوسری کوئی کتاب نہ ہوئی ہے نہ ہوسکتی ہے۔ سو اس کتاب حکیم کی یہ خصوصی اور امتیازی صفات اس کے سوا کسی اور کتاب میں نہ پائی گئی ہیں اور نہ قیامت تک کبھی پائی جانی ممکن ہیں۔ یعنی یہ کہ یہ خالص اتاری ہوئی کتاب ہے اس خالق ومالک کی طرف سے جو کہ اس پوری کائنات اور کائنات کے مخدوم اس انسان کا خالق ہے۔ اور ایسی کہ حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کی تنزیل کے سوا اس میں اور کسی کا کوئی عمل دخل نہیں۔ اسی لیے دوسرے مختلف مقامات پر اس کو " منزل " کی بجائے " تنزیل " فرمایا گیا ہے۔ اسی طرح یہ ایک ایسی مبارک کتاب ہے کہ اس کی خیرات و برکات کی نہ کوئی حد ہے نہ انتہائ۔ سو اس بےمثال نعمت خداوندی کا تقاضا یہ تھا کہ دنیا دل و جان سے اس کو اپنا کر اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرتی لیکن دنیا کی اکثریت نے اس سے منہ موڑ لیا ہے۔ جس کے نتیجے میں وہ نجات و فلاح کی راہ سے محروم ہو کر ہلاکت و تباہی اور دائمی خسارے کے ہولناک گڑھے کی طرف بڑھتی چلی جا رہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 44 قرآن حکیم کے اتارے جانے کا اصل مقصد تدبر و تذکر : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اس کتاب حکیم کے اتارے جانے کا اصل مقصد تدبر و تذکر ہے۔ یعنی تاکہ عقل سلیم رکھنے والے اس کی آیتوں میں غور و فکر اور تذکر سے کام لیں۔ سو اس سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ اس کتاب ہدایت کے نازل کرنے سے اصل مقصد یہ ہے کہ انسان اس میں غور و فکر سے کام لے کر راہ حق و ہدایت سے بہرہ ور و سرشار ہو۔ تاکہ اس طرح وہ سعادت دارین سے سرفراز ہو سکے نہ کہ اس کو صرف تبرک حاصل کرنے، ریشمی غلافوں میں لپیٹنے اور مردوں پر پڑھنے کے لئے رکھ دے اور بس۔ جس طرح کہ آج کے بہت سے نام نہاد مسلمانوں نے سمجھ رکھا ہے۔ اور دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ اس کتاب حکیم سے نصیحت حاصل کرنا عقل سلیم رکھنے والوں ہی کا کام ہے۔ بالفاظ دیگر جو لوگ اس کتاب ہدایت سے نصیحت حاصل نہیں کرتے اور اس سے اعراض کرتے اور منہ موڑتے ہیں ان کی عقلیں سلیم نہیں بلکہ زنگ آلود اور ماؤف ہوچکی ہیں۔ اور اسی بنا پر وہ اس کتاب حکیم کی برکتوں اور اس کے نور مبین سے محروم ہو کر طرح طرح کے اندھیروں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ نہ وہ اپنے خالق ومالک کی معرفت سے آگاہ ہیں اور نہ ہی ان کو اس کے حقوق اور ان کی ادائیگی کا کوئی اتہ پتہ ہے۔ اور نہ ہی ان کو اپنے انجام اور اپنی آخرت کے بارے میں کوئی علم و آگہی ہے۔ بس حیوانوں کی طرح پیٹ بھر کر سو جانا ان کی زندگیوں کا مقصد و نصب العین ہے اور عقل و فکر کی ساری توانائیوں کو انہوں نے بطن وفرج کی شہوتوں کی خدمت و تعمیل میں لگا دیا۔ اور ان کو اس کا احساس تک نہیں۔ اس طرح وہ ہلاکت و تباہی کے کس ہولناک گڑھے میں گر رہے ہیں۔ اور یہی ہے خساروں کا خسارہ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین -
Top