Tafseer-e-Madani - Saad : 3
كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَّ لَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ
كَمْ : کتنی ہی اَهْلَكْنَا : ہم نے ہلاک کردیں مِنْ قَبْلِهِمْ : ان سے قبل مِّنْ قَرْنٍ : امتیں فَنَادَوْا : تو وہ فریاد کرنے لگے وَّلَاتَ : اور نہ تھا حِيْنَ : وقت مَنَاصٍ : چھٹکارا
ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہم نے ہلاک کردیا پھر (شامت آنے پر) انہوں نے بہت کچھ چیخ و پکار کی مگر وہ وقت بچے (اور خلاصی پانے) کا نہیں تھا
3 تاریخ سے درس عبرت لینے کی ہدایت : سو اس ارشاد سے گزشتہ ہلاک شدہ قوموں کے انجام سے سبق لینے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے کہ دیکھو ہم نے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کیا۔ تو جو کچھ تکذیب و انکار حق کے باعث ان لوگوں کے ساتھ ہوا وہ تمہارے ساتھ بھی ہوسکتا ہے اے دور حاضر کے منکرو ! کہ اللہ کا قانون عام، بےلاگ، اور سب کے لئے یکساں اور ایک برابر ہے۔ پس تم باز آجاؤ اپنی روش سے قبل اس سے کہ تم اسی انجام سے دوچار ہوجاؤ جس سے ماضی کی یہ قومیں دوچار ہوچکی ہیں اور قبل اس سے کہ فرصت حیات تمہارے ہاتھ سے نکل جائے اور تم لوگ ہمیشہ کے خسارے میں مبتلا ہوجاؤ کہ پھر اس کی تلافی ممکن نہیں ہوگی۔ سو اس میں گزشتہ قوموں کے انجام سے سبق لینے اور عبرت پکڑنے کی تعلیم و تلقین ہے جو کہ اس کتاب حکیم کے " ذی الذکر " ہونے کا ایک اہم پہلو ہے۔ جیسا کہ اوپر حاشیہ نمبر 1 میں گزرا۔ سو ماضی کی ان منکر اور ہٹ دھرم قوموں نے جب ناصح کی نصیحت پر کان نہ دھرا اور حق و ہدایت کی دعوت کو مان کر نہ دیا تو آخرکار وہ اپنے آخری اور ہولناک انجام کو پہنچ کر رہیں اور انکار و تکذیبِ حق کے نتیجے میں ان کو حرف غلط کی طرح مٹا کر رکھ دیا گیا۔ اور اس طور پر کہ یہ قصہ پارینہ بن کر رہ گئیں ۔ { فَجَعَلْنَاہُمْ اَحَادِیْثَ وَمَزَّقْنَاہُمْ کُلَّ مُمَزَّقٍ } ۔ (سبا : 19) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کفر وانکار اور تکذیبِ حق کا نتیجہ بہرحال ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ - 4 بےوقت کے ایمان کا کوئی فائدہ نہیں : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ عذاب کو دیکھ لینے کے بعد ان لوگوں نے بہت چیخ و پکار کی اور ایمان لانے کے بڑے دعوے کیے لیکن اسکا انکو کوئی فائدہ بہرحال نہ پہنچ سکا۔ کہ عذاب دیکھنے کے بعد ایمان لانا ایمان بالمشاہدہ ہے جو نہ مطلوب ہے نہ مفید۔ کہ مطلوب اور مفید ایمان وہ ہے جو بن دیکھے ہو۔ یعنی ایمان بالغیب۔ اور اس کا موقع بہرحال ان لوگوں کے ہاتھوں سے نکل چکا تھا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ " لات " اصل میں " لا " ہے جس کے ساتھ " ت " کا اضافہ کردیا گیا ہے۔ جس سے اس کے معنی میں مزید زور پیدا ہوجاتا ہے۔ اور " مناص " کے معنیٰ فرار کے ہیں۔ یعنی جب تم لوگوں کے انکار اور تکذیبِ حق کی بنا پر ان کو بالآخر عذاب نے آپکڑا تو ان کی چیخ و پکار کا ان کو کوئی فائدہ نہ پہنچا۔ اور ان کے لیے گریز و فرار کی کوئی صورت ممکن نہ ہوسکی۔ سو یہ ارشاد ایسے ہی ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے ارشاد فرمایا گیا ۔ { فَلَمَّا رَاَوْا بَاسَنَا قَالُوْا آمَنَّا باللّٰہِ وَحْدَہُ وَکَفَرْنَا بِمَا کُنَّا بِہ مُشْرِکِیْنَ ، فَلَمْ یَکُ یَنْفَعُہُمْ اِیْمَانُہُمْ لَمَّا رَآوْا بَاْسَنَا } ۔ (المومن : 84-85) ۔ سو عذاب کے آجانے کے بعد ایمان لانے سے کوئی فائدہ نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Top