Tafseer-e-Madani - Saad : 31
اِذْ عُرِضَ عَلَیْهِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُۙ
اِذْ : جب عُرِضَ : پیش کیے گئے عَلَيْهِ : اس پر۔ سامنے بِالْعَشِيِّ : شام کے وقت الصّٰفِنٰتُ : اصلی گھوڑے الْجِيَادُ : عمدہ
(چنانچہ ان کا وہ واقعہ یاد کرنے کے لائق ہے کہ) جب ان کے سامنے شام کے وقت پیش کیا گیا اصیل اور تیزرو عمدہ گھوڑوں کو تو
45 حضرت سلیمان کی اوابیت کا ایک نمونہ و مثال : جو اس وقت سامنے آیا جبکہ ان کے سامنے شام کے وقت اصیل اور عمدہ و تیز رو گھوڑوں کو پیش کیا گیا۔ " صَافِنَات " جمع ہے " صَافِنْ " کی۔ اور " صَافِنْ " اس گھوڑے کو کہا جاتا ہے جو تین پاؤں پر کھڑا ہو اور چوتھا پاؤں اس نے ٹیک رکھا ہو۔ اور یہ صفت گھوڑوں میں بڑی عمدہ اور محمود صفت سمجھی جاتی ہے۔ اور یہ ان کے عمدہ ہونے کی ایک اہم اور واضح علامت و نشانی ہوتی ہے۔ اور " جیاد " جمع ہے " جواد " کی۔ جس کے معنیٰ عمدہ اور تیز رفتار گھوڑے کے آتے ہیں۔ نیز یہ " جید " کی جمع بھی ہوسکتی ہے۔ (جامع البیان، المراغی، القاسمی، ابن کثیر، الکبیر وغیرہ) ۔ سو یہ گھوڑے اپنی اصل اور نسل کے اعتبار سے بھی عمدہ تھے اور صفات و خصال کے اعتبار سے بھی۔ بہرکیف آنجناب پر ایسے عمدہ اور اصیل گھوڑے پیش کئے گئے تاکہ آپ ﷺ جہاد کے لئے ان کا جائزہ لے سکیں۔ اور اسی مقصد کے لئے آپ نے اپنے سامنے ان کی دوڑ لگوائی۔ تو اس پر یہ واقعہ پیش آیا جو یہاں ذکر فرمایا جا رہا ہے۔ یہ گھوڑے چونکہ جہاد کیلئے رکھے گئے تھے اس لیے حضرت سلیمان کو ان سے خاص انس اور پیار تھا۔ کیونکہ جہاد کے گھوڑوں کی دین حنیف میں بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے۔ چناچہ صحیح بخاری و مسلم کی متفق علیہ حدیث میں حضرت عروہ البارقی ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک خیر بندھی ہوئی ہے۔ ( صحیح البخاری، کتاب المناقب، باب حدثنی محمد بن المثنی ) ۔ سو گھوڑوں کی پیشانی میں قیامت تک خیر بندھی ہوئی ہے۔ یعنی اجر وثواب بھی اور غنیمت مال بھی۔ اور صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے اللہ کی راہ میں گھوڑا پالا، اللہ پر ایمان رکھتے ہوئے اور اس کے وعدے پر یقین کرتے ہوئے تو اس گھوڑے کا کھانا اور پینا اور اس کی لید اور اسکا پیشاپ وغیرہ سب کچھ قیامت کے روز اس کی نیکیوں کے پلڑے میں تولا جائے گا۔ بہرکیف یہاں پر اس قصے کے ذکر وبیان سے حضرت سلیمان کے جوش انابت اور شان اوابیت کا ایک نمونہ اور اس کی مثال پیش فرمائی گئی ہے جس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ کا ذکر اور اس کی یاد دلشاد بہرحال ہر چیز پر مقدم ہے۔
Top