Tafseer-e-Madani - Saad : 4
وَ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ١٘ وَ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا سٰحِرٌ كَذَّابٌۖۚ
وَعَجِبُوْٓا : اور انہوں نے تعجب کیا اَنْ : کہ جَآءَهُمْ : ان کے پاس آیا مُّنْذِرٌ : ایک ڈرانے والا مِّنْهُمْ ۡ : ان میں سے وَقَالَ : اور کہا الْكٰفِرُوْنَ : (جمع) کافر ھٰذَا سٰحِرٌ : یہ جادوگر كَذَّابٌ : جھوٹا
اور ان لوگوں کو تعجب ہو رہا ہے اس بات پر کہ ان کے پاس ایک خبردار کرنے والا آگیا خود انہی میں سے اور کافروں نے کہا یہ تو ایک جادوگر ہے بڑا جھوٹا
5 بشریت پیغمبر منکرین کے لیے باعث محرومی ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ منکرین نے بشریت پیغمبر پر تعجب کا اظہار بھی کیا اور اس بنا پر حق کا انکار بھی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " انہوں نے تعجب کیا کہ انہی میں سے ایک منذر آگیا "۔ یعنی ان ہی میں سے ایک انسان و بشر کو نبی و رسول بنایا گیا تاکہ وہ ان کو زندگی کے ہر دائرے میں عملی نمونہ دکھا سکے۔ مگر اس پر ان لوگون نے خوش ہونے اور حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کا شکر ادا کرنے کی بجائے الٹا اس پر تعجب کا اظہار کیا۔ اعتراضات کئے اور بگڑ کر کہنے لگے کہ ایک بشر نبی رسول کیونکر ہوسکتا ہے۔ پس انہوں نے ان کی نبوت و رسالت کا انکار کردیا۔ اور یہی غلط فہمی دور حاضر کے بہت سے اہل زیغ و ضلال کو بھی لاحق ہے کہ یہ بھی بشریت اور نبوت کے درمیان منافات سمجھتے ہیں۔ سو کل کے ان بگڑے ہوئے انسانوں کا مرض بھی یہی تھا اور آج کا برخود غلط انسان بھی اسی مرض کا مریض اور اسی بیماری کا شکار ہے۔ فرق اگر ہے تو یہ کہ کل کے ان منکروں نے حضرات انبیاء و رسل کی بشریت کی بنا پر ان کی نبوت و رسالت کا انکار کیا جبکہ آج کا بھٹکا ہوا انسان ان کی نبوت و رسالت کے اقرار اور ان پر ایمان کا دعویدار بن کر ان کی بشریت طاہرہ کا انکار کرتا اور کہتا ہے کہ نبی و رسول بشر نہیں ہوتا ۔ والعیاذ باللہ ۔ جب کہ حق اور حقیقت یہ ہے کہ حضرات انبیاء و رسل بشر بھی ہوتے ہیں اور رسول بھی۔ بلکہ ان حضرات کی بشریت و عبدیت پہلے ہوتی ہے اور نبوت و رسالت کے شرف سے ان کو بعد میں نوازا جاتا ہے۔ جیسا کہ " عَبْدُہ وَرَسُوْلُہ " میں بھی اس کی تعلیم دی گئی ہے کہ اس میں پہلے عبدیت کا ذکر و اقرار ہے اور پھر نبوت و رسالت کا ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ بہرکیف پیغمبر اپنی اصل اور حقیقت کے اعتبار سے بندہ اور بشر ہوتا ہے لیکن شرف نبوت و رسالت سے مشرف ہونے کے بعد انکا درجہ سب سے بڑا ہوجاتا ہے۔ سو بشریت انبیاء و رسل منکرین کے لیے تعجب اور محرومی کا باعث رہا اور اسی بنا پر انہوں نے ان کی رسالت کا انکار کیا اور کہا کہ یہ تو ایک ساحر کذاب ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Top