Tafseer-e-Madani - Saad : 41
وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ
وَاذْكُرْ : اور آپ یاد کریں عَبْدَنَآ : ہمارا بندہ اَيُّوْبَ ۘ : ایوب اِذْ نَادٰى : جب اس نے پکارا رَبَّهٗٓ : اپنا رب اَنِّىْ : بیشک میں مَسَّنِيَ : مجھے پہنچایا الشَّيْطٰنُ : شیطان بِنُصْبٍ : ایذا وَّعَذَابٍ : اور دکھ
اور ہمارے بندے ایوب کا بھی ذکر کرو جب کہ انہوں نے پکارا اپنے رب کو (اور عرض کیا) کہ مجھے مبتلا کردیا شیطان نے ایک سخت قسم کی تکلیف اور عذاب میں
57 حضرت ایوب (علیہ السلام) کے ابتلاء کا ذکر : سو اس ارشاد سے حضرت ایوب کے ابتلاء اور آپکا اپنے رب کے حضور ابلیس کے بارے میں شکایت کا ذکر فرمایا گیا کہ اسی لعین نے جیسا کہ روایات میں وارد ہے آنجناب کو مال و دولت کی کثرت و فراوانی اور صحت و اولاد کی بنا پر عجب میں مبتلا کیا۔ اور اس کے نتیجے میں آپ (علیہ السلام) اس طرح مبتلائے عذاب ہوئے۔ (المراغی وغیرہ) ۔ اور یوں ہر برا کام عموماً شیطان ہی کی طرف منسوب کیا جاتا ہے کہ وہ ہے ہی ہر شیطنت اور برائی کا منبع ومصدر ۔ والعیاذ باللہ ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَمَآ اَنْسٰنِیْہُ الاَّ الشَّیْطٰنُ اَنْ اَذْکُرَہ } ۔ اس کے علاوہ یہ بھی مروی ہے کہ اس لعین نے آنجناب کی بیماری کے دوران وساوس و شکوک اور طعن وتشنیع وغیرہ کے نشتروں کے ذریعے بھی آپ (علیہ السلام) کی ایذا رسانی کی۔ (المراغی وغیرہ) ۔ وَالْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰہِ سُبْحَانَہ وَتَعَالٰی وَہُوَ اَعْلَمُ بِمُرَادِ کَلامِہ جَلَّ وَعَلا ۔ " نصب " کے معنیٰ دکھ تھکان اور مصیبت کے ہوتے ہیں۔ اور عذاب سے مراد وہ اذیتیں ہیں جو جسمانی امراض کی صورت میں آپ کو پہنچیں۔ سو " نصب " اور " عذاب " کے ان دو لفظوں سے ان تمام مصائب و آلام کو سمیٹ لیا گیا جن سے حضرت ایوب (علیہ السلام) کو واسطہ پڑا۔ ِسفر ایوب سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ایوب کو قدرت کی طرف سے بڑی دولت اور حشمت سے نوازا گیا تھا لیکن اس کے باوجود آپ نہایت عبادت گزار اور خدا ترس بندے تھے۔ آپ کی اس حالت پر شیطان اور اس کے ایجنٹوں کو بڑا حسد ہوا اور انہوں نے آپ کے خلاف یہ پروپیگنڈا شروع کردیا کہ اگر ایوب دن رات اللہ کی عبادت میں لگے رہتے ہیں تو یہ کیا کمال ہوا۔ اگر اتنا کچھ ملنے کے باوجود عبادت نہ کریں گے تو اور کیا کریں گے۔ پتہ تو جب چلے جب خدا ان سے یہ سب کچھ چھین لے اور پھر بھی آپ اس کی عبادت کریں۔ چناچہ آخرکار ایسا بھی ہوا اور آنجناب سے مال و اولاد وغیرہ سب کچھ چھین لیا گیا تو بھی آپ مایوس یا شکوہ سنج ہونے کی بجائے اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہوگئے اور فرمایا کہ میں اپنی ماں کے پیٹ سے ننگا پیدا ہوا تھا۔ اور اب ننگا ہی اپنے رب کے پاس جاؤں گا۔ سو اس طرح حضرت ایوب نے شکر اور صبر دونوں کی ایک عظیم الشان اور منفرد مثال قائم فرمائی ۔ علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام -
Top