Tafseer-e-Madani - Saad : 42
اُرْكُضْ بِرِجْلِكَ١ۚ هٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ
اُرْكُضْ : (زمین پر) مار بِرِجْلِكَ ۚ : اپنا پاؤں ھٰذَا : یہ مُغْتَسَلٌۢ : غسل کے لیے بَارِدٌ : ٹھنڈا وَّشَرَابٌ : اور پینے کے لیے
(اس پر ہم نے ان سے کہا کہ تم) اپنا پاؤں مارو زمین پر (اور لو) یہ ہے ٹھنڈا پانی نہانے کو اور پینے کو
58 حضرت ایوب کے لیے نیے دور کا ذکر وبیان : سو اس سے ابتلا کے بعد حضرت ایوب کے لیے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور نیے دور کے آغاز کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو ابتلاء کے دور کے خاتمے کے بعد سب سے پہلے حضرت ایوب کیلئے ٹھنڈے صحت بخش پانی کے چشمے کا انتظام کیا گیا۔ سو اس طرح آپ (علیہ السلام) کی انابت الی اللہ کے صلے میں آپ کو اس شرف سے بھی نواز دیا گیا اور ازالہ مرض کا طریقہ بھی تعلیم و ارشاد فرمایا گیا۔ پاؤں کا مارنا تھا کہ نیچے سے ایسے صاف ستھرے اور صحت بخش پانی کا چشمہ ابل پڑا جس کے پینے اور اس میں نہانے سے صحت و شفا کی دولت نصیب ہوگئی اور ابتلاء و آزمائش کا دور ختم ہوا۔ سو انابت اور رجوع الی اللہ شاہ کلید ہے سب کامیابیوں سے سرفرازی کی۔ سو حضرت ایوب کو کسی خاص جگہ کی طرف اشارہ کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ وہاں اپنے پاؤں سے ٹھوکر مارو۔ اس سے عمدہ پانی کا ایک ایسا چشمہ نکل آئے گا جو پینے کیلئے بھی نہایت ٹھنڈا اور نہانے کیلئے بھی بڑا عمدہ اور صحت بخش ہوگا۔ جس سے آپکی اس بیماری کا بھی علاج ہوجائے گا اور تکلیف کا خاتمہ ہوجائے گا۔ سو اللہ پاک ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اپنے بندے کو ایک خاص حد سے زیادہ آزمائش میں نہیں ڈالتا۔ حضرت ایوب کا امتحان جب پورا ہوگیا تو آپ کی دعا بھی فورا اور بلاتاخیر قبول ہوگئی۔ اور آنجناب کے لیے اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم اور انعام واحسان کے نیے دور کا آغاز ہوگیا ۔ والحمد للہ جل وعلا -
Top