Tafseer-e-Madani - Saad : 46
اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ
اِنَّآ : بیشک ہم اَخْلَصْنٰهُمْ : ہم نے انہیں ممتاز کیا بِخَالِصَةٍ : خاص صفت ذِكْرَى : یاد الدَّارِ : گھر ( آخرت کا)
بلاشبہ ہم نے ان سب کو برگزیدہ کیا تھا ایک خاص صفت یعنی اس گھر کی یاد کے ساتھ
63 دار آخرت کی تذکیر و یاددہانی کی عظمت شان : سو اس سے دار آخرت کی تذکیر و یاددہانی کی عظمت شان کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ان حضرات انبیائے کرام کا اصل کام دار آخرت کی تذکیر و یاددہانی ہی رہا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے انکو چن لیا تھا آخرت کے گھر کی تذکیر و یاددہانی کے لیے "۔ یعنی آخرت کی یاد کہ اصل گھر وہی ہے ۔ { وَاِنَّ الاٰخِرَۃَ ہِیَ دَارُ الْقَرَارِ } ۔ (المومن : 39) ۔ یہ دنیا تو محض ایک گزرگاہ اور عارضی منزل ہے۔ سو حضرات انبیائے کرام کا اصل امتیاز اور ان کی خصوصی شان بس اسی دار آخرت کی تذکیر و یاد دھانی تھی۔ مگر افسوس کہ آج اس مادی دور میں انسان آخرت کے اپنے اس حقیقی گھر اور اس کے تقاضوں کو بھول گیا۔ اور ان کو پس پشت ڈال کر وہ اسی فانی اور عارضی دنیا کی چمک دمک میں کھو کر اور الجھ کر رہ گیا۔ اور اس نے اسی دنیا کی عارضی لذتوں اور فانی عیش پرستیوں کے لئے جینا اور انہی کے لئے مرنا گویا اپنا نصب العین اور مقصد حیات بنا لیا ہے ۔ اِلّا مَاشَآِ اللّٰہُ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو آخرت کی یاد تمام صلاح و فلاح کی اساس و بنیاد اور شاہ کلید ہے۔ اگر انسان اس سے غافل اور لاپروا ہوجائے تو وہ ایک بےن تھا بیل بن کر رہ جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں وہ شیطان کے ہتھے چڑھ کر ہلاکت و تباہی کی راہ پر چل پڑتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جبکہ آخرت کی یاد سے انسان فکرمند رہتا ہے اور وہ لغزشوں کے باوجود صراط مستقیم پر گامزن رہتا ہے۔ اس لیے اللہ پاک نے حضرات انبیائے کرام کی قدسی صفات ہستیوں کو آخرت کی تذکیر و یاددہانی کیلئے چن لیا تھا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ تاکہ لوگ آخرت کی اپنی اس اصل حقیقی اور ابدی زندگی کو یاد کر کے اس کے لیے تیاری کریں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Top