Tafseer-e-Madani - Saad : 54
اِنَّ هٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهٗ مِنْ نَّفَادٍۚۖ
اِنَّ : بیشک ھٰذَا : یہ لَرِزْقُنَا : یقینا ہمارا رزق مَا لَهٗ : اس کے لیے ۔ اس کو نہیں مِنْ نَّفَادٍ : ختم ہونا
بیشک یہ ہماری وہ بخشش (وعطاء) ہے جس نے کبھی ختم نہیں ہونا2
70 جنت کی نعمتیں دائمی اور ابدی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک یہ ہماری وہ بخشش و عطا ہوگی جو کبھی ختم نہیں ہوگی "۔ سو یہ جنت کی اور دنیا کی نعمتوں کا ایک بنیادی فرق ہے کہ وہاں کی نعمتیں کبھی ختم نہ ہوں گی جب کہ یہاں کی نعمتیں سراسر فانی اور زوال پذیر ہیں۔ بہرکیف اہل جنت کے سرور کو دوبالا کرنے کیلئے اس روز ان سے کہا جائے گا کہ " یہ ہیں وہ نعمتیں جن کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا " کہ وہ حساب کے دن تم لوگوں کو عطا کی جائیں گی۔ سو وہ اب تمہارے لیے حاضر و موجود ہیں۔ اللہ نے تم سے کیا گیا اپنا وعدہ پورا کردیا ہے اور یہ جو کچھ تم لوگوں کو دیا جا رہا ہے اس میں کسی طرح کی کمی یا زوال کا کوئی خدشہ و اندیشہ نہیں۔ بلکہ ان میں ہمیشہ اضافہ ہی ہوتا رہے گا۔ اب نہ تمہیں انکے انقطاع کا کوئی غم ہو اور نہ ہی اپنی موت کا کوئی خوف و خدشہ کہ یہ " دارالفنا " نہیں " دارالخلد " اور " دارالبقا " ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین۔ اور نعیم جنت کے دوام و خلود اور عدم انقطاع کا یہ مضمون قرآن حکیم میں دوسرے مختلف مقامات پر مختلف اسالیب میں بیان فرمایا گیا۔ مثلا سورة رعد میں ارشاد فرمایا گیا کہ اس کے پھل بھی دائمی ہوں گے اور اس کا سایہ بھی ہمیشہ کے لیے۔ ارشاد ہوتا ہے ۔ { اُکُلُہَا دَائِمٌ وَ ظِلُّہَا } ۔ ( الرعد : 35) اور دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا کہ " جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہونے والا ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والا " ۔ { مَا عِنْدَکُمْ یَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰہِ بَاقٍ } ۔ ( النحل :96) اور سورة التین میں ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کے لیے ایسا اجر ہوگا جو کبھی ختم نہیں ہوگا " ۔ { فَلَہُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ } ۔ (التین : 6) ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ سو اسی کو اصل اور حقیقی نصب العین بنانا چاہیے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Top