Tafseer-e-Madani - Saad : 6
وَ انْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ اَنِ امْشُوْا وَ اصْبِرُوْا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمْ١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ یُّرَادُۖۚ
وَانْطَلَقَ : اور چل پڑے الْمَلَاُ : سردار مِنْهُمْ : ان کے اَنِ : کہ امْشُوْا : چلو وَاصْبِرُوْا : اور جمے رہو عَلٰٓي اٰلِهَتِكُمْ ښ : اپنے معبودوں پر اِنَّ ھٰذَا : بیشک یہ لَشَيْءٌ : کوئی شے (بات) يُّرَادُ : ارادہ کی ہوئی (مطلب کی)
اور اٹھ کر چل دئیے ان کے سردار (یہ کہتے ہوئے) کہ چلو اور ڈٹے رہو تم لوگ اپنے معبودوں (کی پوجا پاٹ) پر بلاشبہ یہ ایک ایسی بات ہے جس کے پیچھے کوئی اور ہی غرض کار فرما ہے
7 مشرکوں کی طرف سے شرک پر اڑے رہنے کی تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ مشرک سرداروں نے اپنے پیرؤوں کو تلقین کی کہ تم ڈٹے رہو اپنے ان ۔ خودساختہ ۔ معبودوں پر "۔ اور تم اپنے ان من گھڑت معبودوں کے خلاف کسی کی کوئی بات مت سنو اور مانو۔ بلکہ تم ان کی پوجا پاٹ اسی طرح کرتے رہو جیسا کہ اب تک کرتے چلے آ رہے ہو۔ قطع نظر اس سے کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ؟ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ؟ بس پوری طرح لکیر کے فقیر بن جاؤ اور بس۔ سو اس طرح صنادید قریش اور مشرکین مکہ لوگوں کو عقیدئہ توحید سے متنفر کرنے اور انکو ورغلاتے اور نور حق و ہدایت سے محروم کرنے اور محروم رکھنے کی تگ و دو کرتے۔ اور اس طرح ضلال اور اضلال دونوں کے مرتکب ہوتے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہ ان کی بدبختی، ہٹ دھرمی اور سیاہ باطنی کا ایک کھلا مظہر تھا کہ اللہ کے رسول کو تو انہوں نے " ساحر " اور " کذاب " قرار دیا لیکن اپنے خود ساختہ، من گھڑت اور بےحقیقت بتوں کو خدا ماننے اور ان پر اڑے اور ان کے ساتھ چپکے رہنے کے لیے وہ اپنے چیلوں کو اس طرح تلقین کرتے تھے اور اس طرح وہ اپنی بدبختی اور سیاہ باطنی کی سیاہی کو اور پکا کرتے اور نور حق و ہدایت سے اور دور ہوتے جاتے ۔ والعیاذ باللہ ۔ 8 منکروں کی ہٹ دھرمی اور بدباطنی کا ایک اور نمونہ اور مظہر : کہ یہ بدبخت دعوت حق کو اپنانے کی بجائے الٹا اس کے بارے میں الزام تراشی کرتے کہ پیغمبر کی اس دعوت کے پیچھے کوئی اور ہی غرض کارفرما ہے۔ یعنی اصل مقصد اس بات سے یہ ہے کہ محمد تم کو اپنے آبائی دین سے پھیر کر اپنے پیچھے لگا دینا چاہتا ہے۔ تاکہ اس طرح اس کو سرداری اور سربراہی مل سکے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ۔ { یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیْکُمْ } ۔ (المومنون : 24) (صفوۃ، محاسن، ابن کثیر اور ابن جریر وغیرہ) ۔ سو دعوت حق کے جواب میں ابنائے دنیا کا طریقہ و وطیرہ ہمیشہ یہی رہا۔ کل بھی ان کا یہی حال تھا اور آج بھی یہی ہے۔ اور اس ارشاد ربانی کی تفسیر میں اور بھی کئی احتمال ہیں ۔ والتفصیل فی المفصل انشاء اللہ تعالیٰ ۔ بہرکیف ان ہٹ دھرم بدبختوں کا کہنا یہ تھا کہ یہ شخص جو وعظ تم لوگوں کو سنا رہا ہے اس کا اصل مقصد تم کو اپنے آبائی دین سے پھیر کر اپنے پیچھے لگانا اور اپنی حکومت اور سربراہی قائم کرنا ہے۔ پس تم ہوشیار رہو اور اس کی تمام تر کوششوں کے علی الرغم اپنے ان من گھڑت معبودوں کے ساتھ چپکے اور جمے بیٹھے رہو۔
Top