Tafseer-e-Madani - Saad : 72
فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ
فَاِذَا : پھر جب سَوَّيْتُهٗ : میں درست کردوں اسے وَنَفَخْتُ : اور میں پھونکوں فِيْهِ : اس میں مِنْ : سے رُّوْحِيْ : اپنی روح فَقَعُوْا : تو تم گر پڑو لَهٗ : اس کے لیے ( آگے) سٰجِدِيْنَ : سجدہ کرتے ہوئے
پھر جب میں اس کو پورے طور پر بنا چکوں اور اس میں پھونک دوں اپنی روح میں سے تو تم سب گر جانا اس کے آگے سجدہ کرتے ہوئے
83 { من روحی } سے مقصود و مراد ؟ : { من روحی } یعنی " اپنی روح " سے مراد ہے اپنی طرف سے روح پھونکنا۔ اور یہ اضافت تعظیم و تشریف کے لئے ہے۔ جیسے " بیت اللہ " اور " ناقۃ اللہ " وغیرہ میں ہے۔ (روح، خازن، کبیر وغیرہ) ۔ سو آنحضرت ﷺ کے بارے میں جو بعض روایات میں ۔ " نُوْرٌ مِّنَ اللّٰہِ " ۔ یا ۔ " مِنْ نُوْرِ اللّٰہِ " ۔ کی قسم کے الفاظ وارد ہوئے ہیں، تو اولاً تو وہ سند و ثبوت کے اعتبار سے پایہ صحت و ثبوت کو نہیں پہنچتے۔ اور بصورت تسلیم اس کے معنیٰ بھی یہی ہوں گے کہ اللہ پاک نے آنحضرت ﷺ کو اپنی طرف سے اور اپنے نور علم و ہدایت سے خاص طور پر نوازا۔ اور آج دنیا میں ایمان و یقین کی جو بھی کوئی روشنی کہیں موجود ہے وہ سب آنحضرت ﷺ ہی کے فیض نبوت کا نتیجہ وثمرہ ہے ﷺ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ آپ ﷺ اپنی اصل اور ذات کے اعتبار سے انسان و بشر ہی تھے مگر صفت کے اعتبار سے نور یعنی نور ہدایت۔ کیونکہ پوری دنیا کے لیے نور حق و ہدایت کا منبع ومصدر آپ ہی کی پیش فرمودہ شریعت ہے۔ 84 آدم کے لیے سجدے کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں مٹی گارے سے ایک انسان بنانے والا ہوں۔ سو جب میں اس کو پورے طور پر بنا چکوں اور اس میں اپنی روح میں سے پھونک دوں تو تم سب گرجانا اس کے آگے سجدہ کرتے ہوئے "۔ اس کی تعظیم و تکریم کے لئے اور اس کی خلافت کو تسلیم کرنے کے طور پر۔ مگر اب تعظیم و تکریم کے لئے کسی کو سجدہ کرنا جائز نہیں۔ قرآن و سنت کی تعلیمات مقدسہ میں اس حقیقت کو طرح طرح سے منقح اور واضح فرما دیا گیا ہے۔ پس جیسا اس وقت حکم خداوندی کے بموجب حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنا ضروری تھا اسی طرح اب اسی مالک کے حکم و ارشاد کے مطابق اس وحدہ لاشریک کے سوا کسی اور کو سجدہ کرنا ممنوع و حرام ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اب ایسا کرنے سے ارتکاب شرک لازم آئے گا جو کہ سب سے بڑا گناہ اور ناقابل معافی سنگین جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اللہ تعالیٰ نے انکو حکم دیا کہ جب میں اس انسان کو بنانے کے بعد اس میں اپنی طرف سے روح پھونک دوں تو تم سب اس کے آگے سجدے میں گرجانا۔ مگر جب اللہ تعالیٰ نے اس میں روح پھونک دی تو حسب حکم سب اس کے آگے سجدے میں گرگئے بجز ابلیس کے کہ وہ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں آدم کے آگے سجدہ کرنے سے انکاری ہوگیا۔ جسکے نتیجے میں وہ ہمیشہ کیلئے راندئہ درگاہ ہوگیا۔ سو اب جو لوگ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں دین حق کے آگے جھکنے اور اس کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں وہ اسی ابلیسی سنت کی پیروی کرتے ہیں۔ لہذا ایسے لوگ اس انجام کیلئے بھی تیار ہوجائیں جس سے ابلیس اور اس کی ذریت دوچار ہوئی ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے حکم و ارشاد کے آگے اکڑنا اور کبر و غرور سے کام لینا محرومیوں کی محرومی اور ہلاکت و تباہی کی راہ ہے۔ اور استکبار شیطان کا طریقہ وطیرہ اور دارین کی ذلت و رسوائی کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل زیغ و وضلال وسوء و انحراف بکل حال من الاحوال و فی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ -
Top