Tafseer-e-Madani - Saad : 74
اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اِسْتَكْبَرَ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ
اِلَّآ : سوائے اِبْلِيْسَ ۭ : ابلیس اِسْتَكْبَرَ : اس نے تکبر کیا وَكَانَ : اور وہ ہوگیا مِنَ : سے الْكٰفِرِيْنَ : کافروں
مگر ابلیس کہ اس نے گھمنڈ کیا اپنی (من گھڑت اور جھوٹی) بڑائی کا اور (وہ علم الہٰی میں) تھا ہی کافروں میں سے3
85 شیطان کے استکبار کا باعث اس کا کفر و انکار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ تھا ہی کافروں میں سے "۔ یعنی کان کے صیغے میں یہاں پر دو احتمال ہیں اور وہ دونوں ہی صحیح ہیں۔ اور دونوں ہی حضرات اہل علم سے مروی و منقول ہیں۔ ایک یہ کہ " کان " یہاں پر " صار " کے معنیٰ میں ہے۔ یعنی اپنے اس انکار و استکبار کی بناء پر وہ ملعون کافر ہوگیا۔ اور دوسرا احتمال اس میں یہ ہے کہ یہاں پر " کان " کو اپنے ظاہر پر ہی رکھا جائے۔ یعنی یہ کہ علم الہٰی میں اور حقیقت واقعہ کے اعتبار سے وہ کافر تو پہلے ہی سے تھا لیکن اس کے اس کفر کا ظہور اب جا کر اس واقعے کے ذریعے ہوا۔ ہم نے اپنے ترجمے میں اسی احتمال کو اختیار کیا ہے۔ ایک تو اس لئے کہ تاکہ لفظ کو اپنے ظاہری مفہوم ہی پر رکھا جائے جو کہ اصل ہے۔ اور دوسرے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے علم محیط و کامل سے کوئی بھی چیز بہرحال پوشیدہ نہیں رہ سکتی ۔ والحمد للہ ۔ بہرکیف ابلیس لعین نے جب اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں حق سے منہ موڑا اور حکم الہٰی سے سرتابی کی تو وہ ہمیشہ کیلئے مردود و مطرود ہوگیا۔ سو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے حکم وارشاد کے مقابلے میں استکبار اور اعراض و انکار سے کام لینا محرومیوں کی محرومی اور ہلاکت و تباہی کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ بالعظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Top