Tafseer-e-Madani - Saad : 75
قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ١ؕ اَسْتَكْبَرْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِیْنَ
قَالَ : اس نے فرمایا يٰٓاِبْلِيْسُ : اے ابلیس مَا مَنَعَكَ : کس نے منع کیا تجھے اَنْ تَسْجُدَ : کہ تو سجدہ کرے لِمَا : اس کو جسے خَلَقْتُ : میں نے پیدا کیا بِيَدَيَّ ۭ : اپنے ہاتھوں سے اَسْتَكْبَرْتَ : کیا تو نے تکبر کیا اَمْ كُنْتَ : یا تو ہے مِنَ : سے الْعَالِيْنَ : بلند درجہ والے
حق تعالیٰ نے فرمایا اے ابلیس تجھے کس چیز نے روکا اس بات سے کہ تو سجدہ کرے اس (عظیم الشان ہستی) کے آگے جس کو میں نے خود بنایا اپنے دونوں ہاتھوں سے ؟ (کیا تو یونہی اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا ہوگیا یا تو (واقع میں کوئی) بڑے درجہ والوں میں سے ہے ؟
86 انسان کی تخلیق قدرت کا ایک عظیم الشان شاہکار : سو ابلیس کے انکار پر اس سے بطور عتاب فرمایا گیا کہ " تو نے اس چیز کو آخر سجدہ کیوں نہیں کیا جس کو میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ؟ "۔ یعنی تخلیق کے ظاہری اسباب کے بغیر براہ راست و بلاواسطہ اپنی خاص عنایت و اہتمام سے۔ اور پھر مزید تعظیم اور اظہار شان کے لئے { یَدِیْ } مفرد نہیں فرمایا بلکہ { یَدَیَّ } تثنیہ کا صیغہ اختیار فرمایا گیا ہے۔ ورنہ اس سے مراد دونوں ہاتھوں سے اس طرح کے کام کرنا نہیں جس طرح ہم مخلوق میں سے کوئی کرتا ہے کہ وہ خالق ومالک اس طرح کے ہر تصور سے پاک اور وراء الوراء ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے اس خاص اہتمام کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کیلئے اختیار فرمایا۔ اور امر واقع یہی ہے کہ انسان کا وجود اپنی صلاحیتوں کے اعتبار سے قدرت کا ایک عظیم الشان شاہکار ہے۔ اب معاملہ انسان کی اپنی صلاحیتوں کے استعمال پر موقوف ہے۔ اگر اس نے ان کو اپنے خالق ومالک کی ہدایات کے مطابق صحیح استعمال کیا تو یہ فرشتوں سے بھی بازی لے جائے گا ورنہ یہ اسفل السافلین کے ہولناک گڑھے میں جاگرے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف حضرت حق جل مجدہ نے ابلیس سے فرمایا کہ تو نے میری اس مخلوق کو آخر سجدہ کیوں نہیں کیا جس کو میں نے اس قدر اہتمام و عنایت سے پیدا کیا اور وہ بھی اس صورت میں جبکہ اس سجدے کا حکم میں نے بذات خود دیا تھا ؟ کیا تو نے محض اپنے اندھے بہرے غرور اور استکبار کی بنا پر ایسے کیا یا تو اپنے زعم و گمان میں کوئی برتر ہستی ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Top