Tafseer-e-Madani - Saad : 76
قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ١ؕ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ
قَالَ : اس نے کہا اَنَا : میں خَيْرٌ : بہتر مِّنْهُ ۭ : اس سے خَلَقْتَنِيْ : تو نے پیدا کیا مجھے مِنْ نَّارٍ : آگ سے وَّخَلَقْتَهٗ : اور تو نے پیدا کیا اسے مِنْ : سے طِيْنٍ : مٹی
اس نے جواب میں کہ میں اس سے بہتر ہوں مجھے تو آپ نے آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو مٹی (گارے) سے
87 ابلیسی منطق کا ایک نمونہ : سو ابلیس لعین نے حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے ارشاد کے جواب میں کہا کہ " میں اس سے بہتر ہوں کہ مجھ کو تو نے آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی گارے سے "۔ تو پھر میں اس کو سجدہ کیوں کرتا کہ میں اس سے افضل ہوں اور وہ مفضول۔ تو افضل مفضول کو سجدہ کس طرح کرے ؟ ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو یہ ہے ابلیسی فکر و منطق اور شیطانی چکر و سوچ کا ایک نمونہ ومظہر کہ کوئی اللہ پاک۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کے صاف وصریح حکم کے مقابلے میں اپنے واہی تباہی حیلوں حوالوں اور من گھڑت ڈھکوسلوں اور مفروضوں کی بنا پر اس طرح اکڑ جائے۔ سو یہ راستہ دائمی تباہی اور ابدی ہلاکت کا راستہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جبکہ دوسرا نمونہ ملائکہ کرام کے طرز عمل کا نمونہ ہے۔ یعنی اپنے خالق ومالک کے حکم و ارشاد کے آگے فوری طور پر بلا کسی چوں و چرا کے صدق دل سے جھک جانا اور سر تسلیم خم کردینا۔ اور یہی راستہ ہے دارین کی سعادت و سرخروئی اور حقیقی فوز و فلاح سے سرفرازی کا ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اسی پر مستقیم و کار بند رہنے کی توفیق بخشے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ۔ حالانکہ یہ شیطانی منطق اور ابلیسی فکر و سوچ سراسر باطل و مردود ہے اور اس کی اس ابلیسی حجت بازی کے سب مقدمات اور جملہ صغرے کبرے سب بےبنیاد ہیں۔ نہ تو زمین مفضول ہے بلکہ وہ بےحد و حساب مخلوق کے لیے آرام و راحت اور سکون و اطمینان کا گہوارہ ہے اور وہ بےحد و حساب مخلوق کی گوناگوں اور بےحد وحساب ضرورتوں کی کفیل وضامن اور حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کی بےپایاں رحمتوں اور عنایتوں کا ایک عظیم الشان اور بےمثال مظہر ہے۔ اور نہ ہی یہ کوئی ضروری امر ہے کہ افضل سے پیدا ہونے والی چیز بھی افضل اور مفضول سے پیدا ہونے والی چیز بھی مفضول ہی رہے۔ اور پھر حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کے صاف وصریح حکم و ارشاد کے مقابلے میں کسی سوال و اعتراض اور چوں و چرا کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے ؟۔ وہاں تو بےچون و چرا تعمیل ہی کرنی چاہیے کہ یہی تقاضائے بندگی اور وسیلہ فوز و فلاح ہے۔
Top