Tafseer-e-Madani - Saad : 77
قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۚۖ
قَالَ : اس نے فرمایا فَاخْرُجْ : پس نکل جا مِنْهَا : یہاں سے فَاِنَّكَ : کیونکہ تو رَجِيْمٌ : راندہ درگاہ
حکم ہوا کہ پس تو نکل جا یہاں سے کہ تو قطعی طور پر راندہ درگاہ ہوگیا
88 شیطان کو جنت سے نکل جانے کا حکم : سو اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے جواب میں شیطان کی اس ابلیسی منطق پر اس لعین کو حکم ہوا کہ " نکل جا یہاں سے کہ تو راندئہ درگار ہوگیا "۔ پس تو راندئہ درگاہ اور محروم ہوگیا ہر خیر اور کرامت سے۔ اس بنا پر کہ تو نے اپنے رب کے حکم و ارشاد کی صاف وصریح طور پر نافرمانی اور خلاف ورزی کی۔ سو رب کے حکم کی مخالفت و خلاف ورزی کا انجام بڑا ہی ہولناک اور تباہ کن ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس حکم عدولی کی بنا پر ابلیس کو جنت سے نکال دیا گیا اور وہ ہمیشہ کیلئے راندئہ درگاہ ہوگیا کہ جنت میں ایسے متکبروں اور بدبختوں کی کوئی جگہ نہیں۔ سو اس کی سرکشی اور نافرمانی و حکم عدولی کے نتیجے میں اس کو جنت سے نکال دیا گیا اور ہمیشہ کی لعنت اور محرومی کا طوق اس کے گلے میں ڈال دیا گیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ سرکشی سے محفوظ اور اپنی بندگی سے سرشار رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Top