Tafseer-e-Madani - Saad : 8
ءَاُنْزِلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ مِنْۢ بَیْنِنَا١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ ذِكْرِیْ١ۚ بَلْ لَّمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِؕ
ءَاُنْزِلَ : کیا نازل کیا گیا عَلَيْهِ : اس پر الذِّكْرُ : ذکر (کلام) مِنْۢ بَيْنِنَا ۭ : ہم میں سے بَلْ : بلکہ هُمْ : وہ فِيْ شَكٍّ : شک میں مِّنْ ذِكْرِيْ ۚ : میری نصیحت سے بَلْ : بلکہ لَّمَّا : نہیں يَذُوْقُوْا : چکھا انہوں نے عَذَابِ : میرا عذاب
کیا ہم سب میں سے یہ ذکر بس انہی پر اتارا جانا تھا (سو ان لوگوں کا یہ کہنا کسی اتباع کی نیت سے نہ تھا) بلکہ (اصل میں) ان کو تو سرے سے میرے ذکر ہی میں شک ہے (اور وہ کسی دلیل کی بناء پر نہیں) بلکہ اس لئے کہ انہوں نے ابھی تک مزہ نہیں چکھا میرے عذاب کا
10 منکرین کے کبر و غرور کا ایک اور نمونہ و مظہر : کہ ان کا کہنا تھا کہ کیا ہم میں سے یہ ذکر بس انہی پر اتارا جاتا تھا ؟ یعنی اگر بالفرض یہ نصیحت اللہ ہی کی طرف سے ہے تو کیا اس کے لئے ہم سب کے درمیان بس یہی ایک صاحب رہ گئے تھے جن کے پاس نہ کوئی مال و دولت ہے اور نہ کرسی و اقتدار اور نہ کوئی دنیوی منصب و مقام۔ اس کے لئے ہمارے دنیادار سرداروں میں سے کسی کا انتخاب کیوں نہ کیا گیا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَقَالُوْا لَوْلاَ نُزِّلَ ہٰذَا الْقُرْآنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ } ۔ (الزخرف : 31) ۔ سو ان بدبختوں کے کبر و غرور کا یہ ایک اور مظہر تھا کہ یہ لوگ اپنے دنیاوی مال و دولت کی بنا پر اپنے آپ کو ایک بڑی چیز سمجھتے تھے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کے یہاں جب اس پوری دنیا کی حیثیت بھی پرکاہ کے برابر نہیں تو پھر اس میں سے کچھ ٹکوں کی کیا حیثیت ہوسکتی ہے ؟ اگرچہ وہ کروڑوں اور اربوں کی مقدار ہی میں کیوں نہ ہو۔ سو دنیاوی مال و دولت کا یہ پہلو بڑا ہی خطرناک اور نقصان دہ ہے کہ اس کی بنا پر انسان کبر و غرور میں مبتلا ہو کر پیغام حق و ہدایت سے منہ موڑ لیتا ہے جس کے نتیجے میں وہ حق اور ہدایت کی دولت سے محروم ہو کر ہمیشہ کی ہلاکت اور تباہی کے گڑھے میں جا گرتا ہے جو کہ خساروں کا خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ کبر و غرور سے محفوظ اور ہمیشہ اپنی امان اور پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 11 منکرین کے اعراض و انکار کے اصل سبب کی تشخیص : سو منکرین کے اعراض و انکار کے اصل سبب کی تشخیص کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ ایسا نہیں جیسا کہ یہ کہتے ہیں بلکہ ان کے انکار کی اصل وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے ابھی تک میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔ یعنی ان کا یہ کفر و انکار کسی دلیل و حجت کی بنا پر مبنی نہیں کہ ایسی کوئی دلیل نہ ان کے پاس ہے نہ واقع میں ہو ہی سکتی ہے کہ کفر و شرک کیلئے کوئی دلیل بھلا ہو ہی کیسے سکتی ہے ؟ ۔ { وَمَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰہِ اِلَہًا اَخَرَ لَابُرَھَاْنَ لَہَ بہ } ۔ (المومنون : 117) ۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ غفلت و لاپرواہی کا شکار ہیں کہ میرے عذاب کا مزہ انہوں نے ابھی تک چکھا نہیں۔ ورنہ اگر میرے عذاب کا تھوڑا سامزہ بھی یہ چکھ لیتے تو ان کے دماغ ٹھکانے لگ جاتے اور مزاج درست ہوجاتے۔ اور جب وہ عذاب اپنے وقت پر آئے گا تو ان کا یہ سب نشہ ہرن ہوجائے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ روایات کے مطابق جب ابوطالب بیمار ہوگئے تو کفار قریش کے کوئی بیس پچیس سردار جن میں ابوجہل، ابوسفیان، امیہ بن خلف، عاص بن وائل، عتبہ بن ابی معیط اور عتبہ و شیبہ جیسے لوگ شامل تھے آپ کے پاس آئے اور کہا کہ آپ اپنے بھتیجے کو سمجھا دیں کہ وہ اپنے اس نئے دین سے باز آجائے۔ تاکہ ہمارے درمیان بپا ہونے ولا یہ تشتت و انتشار ختم ہوجائے۔ وہ ہمارے خداؤں کو برا نہ کہے ہم اس کے خدا کو برا نہ کہیں گے۔ اس پر ابوطالب نے آنحضرت ﷺ کو بلا کر اس کی فہمائش کی۔ تو آپ ﷺ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ چچا جان میں ان سے صرف ایک ایسی بات کا مطالبہ کرتا ہوں جس سے تمام عرب ان کے مطیع فرمان ہوجائیں گے اور عجم ان کے باجگزار بن جائیں گے۔ ان لوگوں نے کہا وہ کیا بات ہے۔ ہم ایک چھوڑ دس مرتبہ ایسی بات کہنے اور ماننے کے لیے تیار ہیں۔ تو آپ نے فرمایا وہ ہے ۔ " لا اِلٰہَ الا اللّٰہُ " ۔ کا کلمہ۔ اس پر وہ سب اپنا سا منہ لے کر رہ گئے اور بڑبڑاہٹ میں وہ باتیں کہنے لگے جو ان آیات میں ذکر فرمائی گئی ہیں۔ تو اس موقع پر یہ آیات کریمہ نازل ہوئیں۔ (ابن جریر، ابن کثیر، روح، قرطبی، خازن اور معالم وغیرہ) ۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ابھی تو ان کو دلائل سے سمجھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اگر یہ اس سے باز نہ آئے تو پھر ان کیلئے عذاب کا تازیانہ بھی نمودار ہوجائے گا۔ مگر پھر ان کیلئے بچنے کی کوئی صورت ممکن نہیں ہوگی اور پھر پچھتانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ بلکہ اس کے بعد ان کو اپنے کیے کرائے کا نتیجہ ہمیشہ ہمیش کے لیے بھگتنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ -
Top