Tafseer-e-Madani - Saad : 83
اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ
اِلَّا : سوائے عِبَادَكَ : تیرے بندے مِنْهُمُ : ان میں سے الْمُخْلَصِيْنَ : (جمع) مخلص
بجز تیرے ان خاص بندوں کے جن کو تو نے چن لیا ہوگا
91 شیطان کا زور اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں پر نہیں چل سکتا : سو مہلت ملنے پر ابلیس نے بڑے زور اور طنطنے کے ساتھ کہا کہ " تیری عزت کی قسم میں ان سب کو گمراہ کر کے چھوڑوں گا سوائے تیرے چنے ہوئے خاص بندوں کے "۔ کہ تیرے خاص اور چنے ہوئے بندوں پر میرا زور اور میرا جادو بہرحال نہیں چل سکے گا۔ سو اس ملعون کا زور اور جادو انہی لوگوں پر چلتا ہے جو ایمان و یقین کی قوت اور اپنے رب پر توکل و اعتماد کے شرف سے محروم ہوتے ہیں۔ اور وہ اس سے دوستی کی پینگیں بڑھاتے ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی اس طرح تصریح فرما دی گئی ہے ۔ { اِنَّہ لَیْسَ لَہ سُلْطَانٌ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَلٰی رَبِّہُمْ یَتَوَکَّلُوْنَ ، اِنَّمَا سُلْطَانُہ عَلَی الَّذِیْنَ یَتَوَلَّوْنَہ وَالَّذِیْنَ ہُمْ بِہٖ مُشْرِکُوْنَ } (النحل : 99-100) ۔ سو اللہ پاک پر سچا پکا ایمان و یقین اور اسی پر بھروسہ و اعتماد وہ شاہ کلید ہے جو انسان کو ہر خیر سے مشرف و ہمکنار کرنے والی اور ہر شر اور خرابی سے بچانے اور محفوظ رکھنے والی ہے ۔ فَزِدْنَا اَللّٰہُمَّ اِیْمَانًا بِکَ وَیَقِیْنًا وَحُبًّا فِیْکَ وَتَوَکُّلاً عَلَیْکَ ۔ فلا حول ولا قوۃ الا بک تبارکت وتعالیت ۔ بہرکیف ابلیس نے اس موقع پر بڑے طنطنے سے کہا کہ " تیرے مخلص اور چیدہ بندوں کے سوا باقی سب کو میں گمراہ کر کے چھوڑوں گا " تاکہ اس طرح میں یہ ثابت کر دکھاؤں کہ جس انسان کو تو نے اس عزت اور شرف سے نوازا ہے وہ اس کا اہل نہیں۔ اور میں نے جو اس کو سجدہ نہیں کیا تو ٹھیک کیا اور میں اپنے اس فیصلے میں حق بجانب تھا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین
Top