Tafseer-e-Madani - Saad : 86
قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِیْنَ
قُلْ : فرما دیں مَآ : نہیں اَسْئَلُكُمْ : میں مانگتا تم سے عَلَيْهِ : اس پر مِنْ اَجْرٍ : کوئی اجر وَّمَآ اَنَا : اور نہیں میں مِنَ : سے الْمُتَكَلِّفِيْنَ : بناوٹ کرنے والے
(ان سے) کہو کہ میں (تبلیغ حق کے) اس کام پر تم لوگوں سے کوئی اجر نہیں مانگتا اور نہ ہی میں کوئی تکلف (اور بناوٹ) کرنے والے لوگوں میں سے ہوں
92 نبوت کی عظمت شان کے دو خاص پہلو : سبحان اللہ ! کتنے صاف سادے اور مختصر وصریح لفظوں میں نبوت و رسالت سے متعلق دو عظیم الشان اور بنیادی حقیقتوں کو واضح فرما دیا گیا۔ ایک یہ کہ پیغمبر کا کام قطعی طور پر بےلوث ہوتا ہے۔ وہ دعوت اور تبلیغِ حق کے کام پر لوگوں سے کسی بھی طرح کے کسی اجر و صلہ کے طالب و خواہش مند نہیں ہوتے۔ اور دوسرے یہ کہ وہ کسی بھی تصنع اور بناوٹ سے کام نہیں لیتے بلکہ اللہ کے بندوں کی بہتری اور بھلائی کے لئے ان کو اٹل غیبی حقائق سے بلا کسی لاگ لپٹ اور بغیر کسی کم وکاست کے صاف طور پر آگاہ کردیتے ہیں ۔ صَلَوَات اللّٰہِ وَسَلاَمُہ علیہم وَعَلٰیٰ اَفْضلہم اَجْمعین ۔ بہرکیف اس طرح آخر میں پیغمبر کی زبان سے یہ اعلان کرایا گیا کہ حق اور حقیقت بہرحال یہی ہے کہ میں اس پیغام حق پر تم سے کسی اجر و صلہ کا طالب نہیں ہوں کہ اگر تم نے اس کی قدر نہ کی تو میں اس سے محروم رہ جاؤں گا۔ میں نے تو یہ بار گراں اپنی خواہش سے اٹھایا ہی نہیں۔ یہ تو خداوند قدوس کی ڈالی ہوئی ذمہ داری ہے جس کو میں پورا کر رہا ہوں۔ اس لیے میرا اجر وثواب بھی اسی پر ہے اور اس عظیم الشان ذمہ داری کی ادائیگی میں میری مدد و معاونت بھی وہی فرمائے گا ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
Top