Al-Qurtubi - Saad : 29
وَ لَا تُؤْتُوا السُّفَهَآءَ اَمْوَالَكُمُ الَّتِیْ جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ قِیٰمًا وَّ ارْزُقُوْهُمْ فِیْهَا وَ اكْسُوْهُمْ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا
وَلَا : اور نہ تُؤْتُوا : دو السُّفَھَآءَ : بےعقل (جمع) اَمْوَالَكُمُ : اپنے مال الَّتِىْ : جو جَعَلَ : بنایا اللّٰهُ : اللہ لَكُمْ : تمہارے لئے قِيٰمًا : سہارا وَّارْزُقُوْھُمْ : اور انہیں کھلاتے رہو فِيْھَا : اس میں وَاكْسُوْھُمْ : اور انہیں پہناتے رہو وَقُوْلُوْا : اور کہو لَھُمْ : ان سے قَوْلًا : بات مَّعْرُوْفًا : معقول
اور پیچھے بھیجا ہم نے انہی کے قدموں پر عیسیٰ مریم کے بیٹے کو8 تصدیق کرنے والا تورات کی جو آگے سے تھی اور اس کو دی ہم نے انجیل جس میں ہدایت اور روشنی تھی اور تصدیق کرتی تھی اپنے سے اگلی کتاب تورات کی اور راہ بتلانے والی اور نصیحت تھی ڈرنے والوں کو9
8 یعنی ان کے نقش قدم پر یہ بھی چلتے تھے۔ 9 یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) خود اپنی زبان سے تورات کی تصدیق فرماتے تھے اور جو کتاب (انجیل) ان کو دی گئی تھی وہ بھی تورات کی تصدیق کرتی تھی اور انجیل کی نوعیت بھی نور و ہدایت ہونے میں تورات کی طرح تھی۔ احکام و شرائع کے اعتبار سے دونوں میں بہت ہی قلیل فرق تھا۔ جیسا کہ (وَلِاُحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِيْ حُرِّمَ عَلَيْكُمْ ) 3 ۔ آل عمران :50) میں اشارہ کیا گیا ہے۔ اور یہ فرق تورات کی تصدیق کے منافی نہیں جیسے آج ہم قرآن کو ماننے اور صرف اسی کے احکام کو تسلیم کرنے کے باوجود بحمد اللہ تمام کتب سماویہ کے من عند اللہ ہونے کی تصدیق کرتے ہیں۔
Top