Madarik-ut-Tanzil - Al-Faatiha : 2
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ
الْحَمْدُ : تمام تعریفیں     لِلّٰہِ : اللہ کے لیے     رَبِّ : رب     الْعَالَمِينَ : تمام جہان
سب طرح کی تعریف خدا ہی کو سزاوار ہے جو تمام مخلوقات کا پروردگار ہے
وجہ اول : کیونکہ رحیم میں ایک لفظ زائد ہے، اور رحمان میں دو لفظ ہیں اور الفاظ کا اضافہ معنی کے اضافہ پر دلالت کرتا ہے۔ اسی لیے دعا میں یا رحمن الدنیا کے الفاظ آئے ہیں، کیونکہ رحمن کی رحمت سے مومن و کافر ہر دو فائدہ اٹھا رہے ہیں اور رحیم الاخرۃ کے لفظ آئے ہیں، کیونکہ وہ رحمت ایمان والوں کے لیے مخصوص ہے۔ وجہ دوم : علماء نے فرمایا رحمن اللہ تعلای کا نام ہونے کی وجہ سے خاص سے اس سے غیر اللہ کی صفت نہیں کی جاسکتی، اور معنی کے اعتبار سے عام ہے جیسا کہ ہم نے بیان کردیا، الرحیم اس کے برعکس غیر کی صفت بن سکتا ہے اور اس کی رحمت ایمان والوں کے لیے خاص ہوگی، اسی لیے رحمن کو مقدم کیا گیا۔ سوال : اگرچہ زیادہ بلیغ رحمن کا مقدم کرنا ہے، اور قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ ادنی سے اعلی کی طرف ترقی ہو جیسے کہا جاتا ہے۔ فلان عالم نحریر فلاں زبردست عالم ہے۔ جواب : یہ غیر اللہ کی صفت نہیں بنتا اس لیے یہ بمنزلہ علم کے ہوا۔ (اور علم صفت سے مقدم لایا جاتا ہے) رحمت کا مطلب : اللہ کی رحمت سے مراد بندوں پر اس کا انعام و احسان کرنا ہے اصل میں رحمت کا معنی شفقت ہے۔ (اللہ تعالیٰ کے اسماء صفات میں مبادی کا لحاظ نہیں بلکہ غایات کا لحاظ ہے، انسانون کے لیے بعض صفات کا استعمال مبادی کے لحاظ سے ہے۔ فافہم و تدبر : مترجم) مسیلمہ کذاب کے بارے میں شاعر کا قول : وانت غیث الوری لازلت رحمانا، اس میں مسیلمہ کے لیے رحمان کا لفظ استعمال کیا گیا، درحقیقت یہ کفر پر محض ضد بازی کی وجہ سے ایسا کیا گیا۔ (حالانکہ محاورہ عرب اس کا ساتھ نہیں دیتا کیونکہ ان کے ہاں یہ لفظ استعمال میں ہی نہ تھا۔ قالوا وما الرحمن۔ نحوی اختلاف : رحمان : نمبر 1 : غیر منصرف ہے ان علماء کے ہاں جو فعلانۃ مونث کا وزن نہ آنے کی وجہ سے فعلان کو غیر منصرف مانتے ہیں۔ یہ منصرف ہے کیونکہ اس کی مونث فعلی کے وزن پر نہیں بنتی ان دونوں میں اول قول راجح ہے۔ حمد کی تشریح : الحمد : فضیلت کے انداز سے کسی خوبی پر تعریف کرنا، یہ مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے، اصل میں یہ منصوب ہے فعل مضمر کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے اس کی تفصیل اس طرح ہے۔ فعل مضمر جو خبر کے معنی میں ہو اس کا منصوب مصدر اس کو مانا گیا۔ جیسا کہ عرب کا قول : شکرا و کفرا ای شکرت شکرا۔ مرفوع کی وجہ : منصوب سے مرفوع کی طرف عدول کرنے کی وجہ معنی میں پختگی و ثبوت ظاہر کرنا ہے۔ للہ : یہ مبتدا کی خبر ہے، لام کا تعلق محذوف واجب یا ثابت سے ہے۔ حمد و مدح و شکر میں فرق : کسی اختیاری خوبی پر زبان سے تعریف کرنا خواہ مقابلہ میں نعمت ہو یا نہ حمد کہلاتا ہے۔ حمد و مدح دونوں ہم معنی ہیں۔ مثلا تم کہو گے : حمدت الرجل علی انعامہ، حمدتہ علی شجاعتہ وحسبہ۔ پہلی مثال میں مقابلے میں نعمت ہے اور دوسری مثال میں نعمت وغیرہ کچھ نہیں، شکر خاص طور پر نعمت کیا جاتا ہے، البتہ شکر دل، زبان اعضا تمام سے ہی کیا جاتا ہے۔ جیسا شاعر کا یہ قول : افادتکم النعماء منی ثلاثۃ۔ ید و لسانی والضمیر المحبا۔ نعمتوں کا فائدہ تمہیں میری طرف سے تین طرح پہنچا، میرے، ہاتھ، زبان اور مخفی ضمیر سے۔ (یہاں شکر کے بالمقابل زبا، ہاتھ اور ضمیر تینوں کا ذکر کیا) حمد : صرف زبان سے ہوتی ہے وہ شکر کا ایک شعبہ ہے اور اس حدیث میں یہی معنی ہے۔ الحمد راس الشکر ما شکر اللہ عبد لم یحمدہ (حمد شکر کی چوٹی ہے اور اس بندے نے شکر ادا نہیں کیا جس نے اللہ کی تعریف نہیں کی) اس ارشاد میں حمد کو شکر کی چوٹی قرار دیا گیا، کیونکہ زبان سے نعمت کا تذکرہ کرنے سے زیادہ پھیلتا ہے، بہ نسبت اعتقاد اور اعمال جوارح کے۔ کیونکہ دل کا عمل مخفی ہے اور اعضا کے عمل میں احتمال ہے، حمد کی نقیض ذم ہے اور شکر کی نقیض کفران ہے۔ شکر و مدح کا فرق : یہ بھی کہا گیا ہے کہ مدح اوصاف کمال پر کسی کی تعریف کرنا مثلا باقی رہنا، قادر، عالم، ابدی، ازلی ہونا۔ شکر : جس کی طرف سے قسما قسم کی مہربانیاں ہوں ان پر اس کی تعریف کرنا اور حمد کا لفظ شکر و مدح دونوں کو شامل ہے۔ الحمد کا الف لام ہمارے نزدیک استغراق کے لیے ہے بخلاف معتزلہ کے، اسی لیے اس کو اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ ملایا جو اسم ذات ہے اور تمام صفات کمال کو جامع ہے، اور یہی بنیاد ہے مسئلہ خلق افعال کی جس کی تحقیق کئی مقام پر میں نے کردی ہے۔ رب اور عالمین کا معنی : رب العالمین : الرب، مالک حضرت ابو سفیان کو صفوان نے جو بات کہی : لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن، اگر میرا مالک قریش کا کوئی آدمی ہو وہ بہتر ہے اس بات سے کہ ہوازن کا کوئی آدمی میرا مالک ہو۔ اس طرح بولتے ہیں رب یرب یربہ فھو رب۔ یہ اسم فاعل کے معنی میں ہے۔ دوسرا قول : یہ بھی درست ہے کہ یہ مصدر ہو جو مبالغہ کے لیے لایا گیا ہو، جیسا کہ کسی عادل کو عدل کہتے ہیں۔ طریق استعمال : مطلقا لفظ رب اللہ وحدہ کے لیے بولا جاتا ہے۔ اور بندوں کے لیے اس کا استعمال قید و سنبت کے ساتھ ہوتا ہے جیسا ان آیات میں (انہ ربی احسن مثوای) یوسف :23 ۔ (ارجع الی ربک) یوسف :50 ۔ واسطی نے کہا وہ ابتدا کرنے والا ہونے کے لحاظ سے خالق ہے اور غذا دینے کے لحاظ سے مربی اور انتہا کے لحاظ سے غافر ہے۔ یہ اللہ کا اسم اعظم ہے۔ العالم 1: جس چیز سے خالق کا علم ہو خواہ جواہر کی قسم سے ہو یا اعراض یا اجسام میں سے ہو۔ 2 ہر موجود ماسوی اللہ کو کہتے ہیں، اس کا یہ نام اس لیے رکھا گیا کیونکہ یہ اس کے وجود کی علامت ہے۔ سوال : اس کی جمع واؤ نون کے ساتھ لائی گئی ہے، حالانکہ واؤ نون والی جمع تو عقلاء کے ساتھ خاص ہے یا ان اعلام میں آتی ہے جو جمع عاقل کے حکم میں ہیں۔ جواب : اس میں وصفیت کے معنی ہیں جو کہ علم کے معنی کے لیے دلالت ہے۔ (پس جمع لانا درست ثابت ہوگیا)
Top