Madarik-ut-Tanzil - Yaseen : 19
قَالُوْا طَآئِرُكُمْ مَّعَكُمْ١ؕ اَئِنْ ذُكِّرْتُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ
قَالُوْا : انہوں نے کہا طَآئِرُكُمْ : تمہاری نحوست مَّعَكُمْ ۭ : تمہارے ساتھ اَئِنْ : کیا ذُكِّرْتُمْ ۭ : تم سمجھائے گئے بَلْ : بلکہ اَنْتُمْ : تم قَوْمٌ : لوگ مُّسْرِفُوْنَ : حد سے بڑھنے والے
انہوں نے کہا کہ تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے کیا اس لئے کہ تم کو نصیحت کی گئی بلکہ تم ایسے لوگ ہو جو حد سے تجاوز کر گئے ہو
19: قَالُوْا طَآپرُکُمْ (ان رسولوں نے کہا تمہاری نحوست) یعنی تمہاری نحوست کا سبب مَّعَکُمْ (تمہارے ساتھ ہے) اور وہ کفر ہے۔ اَپنْ (کیا اگر ) قراءت : ہمزہ استفہام اور حرف شرط کے ساتھ کوفی اور شامی نے پڑھا ہے۔ ذُکِّرْتُمْ (تمہیں نصیحت کی جائے) وعظ کیا جائے اور اسلام کی طرف بلایا جائے۔ جواب شرط مضمر ہے۔ تقدیرکلام یہ ہے۔ تطیر تم۔ قراءت : این اور نافع کو ہمزہ ممدودہ جس کے بعد یائے مک سورة ہو ابوعمرو نے پڑھا ہے۔ اور ہمزہ مقصورہ أین جس کے بعد یائے مک سورة ہو مکی نے پڑھا ذکرؔ تم کو تخفیف کے ساتھ یزید نے پڑھا ہے۔ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ (بلکہ تم لوگ حد سے نکل جانے والے ہو) ۔ نافرمانی میں حد سے آگے گزرنے والے ہو۔ اس وجہ سے تمہارے پاس نحوست آئی ہے۔ نہ کہ رسولوں کی طرف سے اور ان کے نصیحت کردینے کی وجہ سے۔ نمبر 2۔ بلکہ تم اپنی گمراہی اور راستہ سے بھٹکنے میں حد سے بڑھے ہوئے ہو۔ وہ اس طرح کہ ان ہستیوں کو نحوست کا سبب قرار دیتے ہو۔ جو کہ تبرک کے قابل و لائق ہیں۔
Top