Madarik-ut-Tanzil - Saad : 18
اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِشْرَاقِۙ
اِنَّا سَخَّرْنَا : بیشک ہم نے مسخر کردیے الْجِبَالَ : پہاڑ مَعَهٗ : اس کے ساتھ يُسَبِّحْنَ : وہ تسبیح کرتے تھے بِالْعَشِيِّ : شام کے وقت وَالْاِشْرَاقِ : اور صبح کے وقت
ہم نے پہاڑوں کو ان کے زیر فرمان کردیا تھا کہ صبح و شام ان کے ساتھ (خدائے) پاک (کا ذکر) کرتے تھے
18: اِنَّا سَخَّرْنَا (بیشک ہم نے حکم کررکھا تھا) مطیع کردیا تھا۔ الْجِبِالَ مَعَہٗ (پہاڑوں کو ان کے ساتھ) ایک قول : یہ ہے کہ ان کی تسخیر یہ تھی کہ وہ ان کے ساتھ ساتھ چلتے۔ جب وہ ان کو چلانے کا ارادہ فرماتے۔ جہاں کا ارادہ فرماتے۔ یُسَبِّحْنَ (وہ تسبیح کریں) ۔ فائدہ : یہ مضارع حال واقع ہے مسبحات کے معنی میں ہے مسبحات کی بجائے مضارع اس لئے لایا گیا تاکہ پہاڑوں سے اس تسبیح کے یکے بعد دیگرے اور ایک حالت کے بعد دوسری حالت میں کرنے پر دلالت ہو۔ بِالْعَشِیِّ وَالْاِشْرَاقِ (صبح وشام) یعنی دن کے دونوں اطراف میں العشیؔ عصر سے رات تک کا وقت اور اشراقؔ وقت طلوع سے چاشت تک کا وقت باقی شروق طلوع کو کہا جاتا ہے جیسا کہتے ہیں : شرقت الشمس ولما تشرق۔ سورج طلوع تو ہوگیا مگر ابھی خوب روشنی نہیں ہوتی۔ قول ابن عباس ؓ : مجھے صلاۃ ضحی کا پتہ اس آیت سے چلا۔
Top