Madarik-ut-Tanzil - Saad : 3
كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَّ لَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ
كَمْ : کتنی ہی اَهْلَكْنَا : ہم نے ہلاک کردیں مِنْ قَبْلِهِمْ : ان سے قبل مِّنْ قَرْنٍ : امتیں فَنَادَوْا : تو وہ فریاد کرنے لگے وَّلَاتَ : اور نہ تھا حِيْنَ : وقت مَنَاصٍ : چھٹکارا
ہم نے ان سے پہلے بہت سی امتوں کو ہلاک کردیا تو وہ (عذاب کے وقت) لگے فریاد کرنے اور وہ رہائی کا وقت نہیں تھا
3: کَمْ اَھْلَکْنَا (بہت سی امتوں کو ہم ہلاک کرچکے) تعصب واکڑ والے لوگوں کیلئے وعید ہے۔ مِنْ قَبْلِھِمْ (ان سے قبل) یعنی آپ کی قوم سے پہلے مِّنْ قَرْنٍ (امتیں) فَنَادَوْا (انہوں نے ہائے پکار کی) پس انہوں نے پکارا اور اس وقت فریاد کی جب انہوں نے عذاب دیکھا۔ وَّ لَاتَ (حالانکہ تھا) یہ لا مشبہ بلیس ہے اس پر تائے تانیث کا اضافہ کیا گیا ہے۔ جیسا کہ رب اور ثم پر تاکید کیلئے اضافہ کیا جاتا ہے اور اس سے اس کا حکم بھی بدل گیا۔ اس صورت میں یہ صرف احیان پر داخل ہوتا ہے۔ اور اس کا ایک ہی مقتضٰی ظاہر ہوتا ہے خواہ اسم ہو یا خبر۔ دونوں پر اس کا ظہور ممتنع ہوجاتا ہے۔ یہ خلیل و سیبویہ کا مذہب ہے، اخفش نحوی کہتے ہیں۔ یہ لانفی جنس ہے اور تاء اس میں زائد ہے۔ اور احیان کی نفی کے ساتھ خاص ہے۔ حِیْنَ مَنَاصٍ (رہائی کا وقت) اور اسی لا کی وجہ سے منصوب ہے۔ گویا یوں کہا گیا ولا حین مناص لھم اور خلیل و سیبویہ کے نزدیک نصب کی وجہ لا مشبہ بلیس ہے۔ ولات الحین حین مناص ای لیس الحین حین مناص وہ وقت رہائی کا نہ تھا۔
Top