Madarik-ut-Tanzil - Saad : 42
اُرْكُضْ بِرِجْلِكَ١ۚ هٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ
اُرْكُضْ : (زمین پر) مار بِرِجْلِكَ ۚ : اپنا پاؤں ھٰذَا : یہ مُغْتَسَلٌۢ : غسل کے لیے بَارِدٌ : ٹھنڈا وَّشَرَابٌ : اور پینے کے لیے
(ہم نے کہا زمین پر) لات مارو (دیکھو) یہ (چشمہ نکل آیا) نہانے کو ٹھنڈا اور پینے کو (شیریں )
ایڑی سے چشمہ ابلنے لگا : 42: اُرْکُضْ بِرِجْلِکَ (اپناپائوں مارو) یہ اس کی حکایت ہے جو ایوب (علیہ السلام) کو جواب دیا گیا یعنی ہم نے ان کی طرف جبرئیل (علیہ السلام) کو بھیجا۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے کہا ارکض برجلک تم اپنا پائوں زمین پر مارو۔ یہ جابیہ شام کا علاقہ تھا۔ آپ نے پائوں مارا تو چشمہ ابل پڑا۔ پس ان کو کہا گیا۔ ھٰذَا مُغْتَسَلٌم بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ (یہ نہانے کا ٹھنڈا پانی ہے اور پینے کا) یعنی یہ وہ پانی ہے جس سے تو غسل کرے گا اور پیئے گا اور تیرا ظاہر و باطن سب درست و صحت یاب ہوجائے گا۔ ایک قول : دو چشمے جاری ہوئے ایک سے غسل کیا اور دوسرے سے پانی نوش فرمایا اللہ تعالیٰ کے حکم سے اندر باہر سے بیماری کا اثر جاتا رہا ہے۔
Top