Madarik-ut-Tanzil - Saad : 46
اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ
اِنَّآ : بیشک ہم اَخْلَصْنٰهُمْ : ہم نے انہیں ممتاز کیا بِخَالِصَةٍ : خاص صفت ذِكْرَى : یاد الدَّارِ : گھر ( آخرت کا)
ہم نے ان کو ایک (صفت) خاص (آخرت کے) گھر کی یاد سے ممتاز کیا تھا
انبیاء ( علیہ السلام) یادِ آخرت کے لئے مخصوص : 46: اِنَّآ اَخْلَصْنٰھُمْ (ہم نے ان کو مخصوص کیا تھا) ہم نے ان کو اپنے لیے خاص کرلیا۔ بِخَا لِصَۃٍ (ایک خاص بات سے) ایک خاص خصلت کے ساتھ جس میں ملاوٹ نہ تھی۔ ذِکْرَی الدَّارِ (وہ یاد آخرت کی ہے) نحو : نمبر 1۔ ذکرٰی یہ محل نصب میں ہے۔ یا محل رفع میں ہے اعنی محذوف مانیں تو نصبی حالت اور ہی مقدر ہو تو رفعی ہے۔ نمبر 3۔ خالصۃ سے بدل ہونے کی وجہ سے مجرور ہے۔ مطلب یہ ہوا ہم نے ان کو یاد آخرت کے ساتھ مخصوص کردیا یعنی ہم نے اس طرح خالص بنایا کہ وہ لوگوں کو آخرت یاددلانے والے ہیں اور دنیا سے بےرغبتی دلانے والے ہیں۔ جیسا کہ انبیاء (علیہم السلام) کا طرز عمل ہے۔ یا اس کا مطلب یہ ہے وہ آخرت کا کثرت سے تذکرہ کرتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع رکھتے اور دنیا کا تذکرہ بھول جاتے ہیں۔ قراءت : مدنی نے بخالصۃ ذکری پڑھا ہے اور یہ اضافۃ الشئی الٰی مایبینہ کے قبیل سے ہے یعنی کسی ایسی شئی کی طرف اضافت کرنا جو اس کو بیان کردے کیونکہ خالص ذکر اور غیر ذکر کئی چیزیں ہوسکتی ہیں۔ ذکری مصدر ہے جس کی اضافت مفعول کی طرف کی گئی ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے بان خلص ذکری الدار ایک قول یہ ہے : خالصہ یہ خلوص کے معنی میں ہے۔ اور اس کی اضافت فاعل کی طرف ہے۔ تقدیر کلام اس طرح بنے گی بان خلصت لھم ذکری الدار علی انہم لایشوبون ذکری الداربہم آخر انما ھمھم ذکری الدار لاغیر۔ یہ کہ ان کا آخرت کا تذکرہ خالص ہے اس طرح کہ وہ آخرت کے تذکرہ کے ساتھ اور کسی فکر کو نہیں ملاتے ان کا ایک غم اور فکر ہے وہ آخرت کی یاد ہے نہ کہ اور کچھ۔ ایک قول : ذکری الدار سے دنیا میں اچھی تعریف ہے اور یہ بات ہے جس کے ساتھ ان کو خالص کرلیا گیا اوروں کا تذکرہ اس طرح نہیں کیا جاتا جیسا ان کا کیا جاتا ہے اسی معنی کی تقویت اس قول سے بھی ہوتی ہے۔ وجعلنا لھم لسان صدق علیًّا ] مریم : 50[
Top