Madarik-ut-Tanzil - Saad : 5
اَجَعَلَ الْاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عُجَابٌ
اَجَعَلَ : کیا اس نے بنادیا الْاٰلِهَةَ : (جمع) معبود اِلٰهًا : معبود وَّاحِدًا ښ : ایک اِنَّ ھٰذَا : بیشک یہ لَشَيْءٌ : ایک شے (بات) عُجَابٌ : بڑی عجیب
کیا اسنے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنادیا ! یہ تو بڑی عجیب بات ہے
توحید پر تعجب مگر شرک پر نہیں : 5: اَجَعَلَ الْاٰلِھَۃَ اِلٰھـًا وَّاحِدًا اِنَّ ھٰذَا ( کیا اس نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود رہنے دیا) واقعی لَشَیْئٌ عُجَابٌ (یہ بہت ہی عجیب بات ہے) یہاں وقالوا کا لفظ استعمال نہیں فرمایا تاکہ ان پر غضب کا اظہار ہو اور اس بات پر دلالت ہو کہ اس بات کی جسارت وہ کافر ہی کرسکتا ہے جو کفر میں انتہاء کو پہنچا ہو۔ اور گمراہی میں خوب مشغول ہو۔ اس لئے کہ اس سے بڑا کفر اور کیا ہوگا کہ جسے اللہ تعالیٰ سچا بناکر بھیجے یہ اس کو کاذب و ساحر کہیں اور توحید جیسے واضح اور کھلے ہوئے حق پر تعجب کا اظہار کریں اور شرک پر ان کو ذرا تعجب نہ ہو۔ حالانکہ وہ محض باطل ہے۔ سردارانِ قریش کا وفد : روایت میں ہے کہ جب عمر ؓ اسلام لائے تو مسلمان بڑے خوش ہوئے اور قریش پر یہ بات بجلی بن کر گری چناچہ سردارانِ قریش کے پچیس سردار جمع ہوئے اور ابوطالب کے پاس جادھمکے اور کہنے لگے تم ہمارے بزرگ ہو اور یہ بیوقوف جو کچھ کررہے ہیں وہ تمہاری نظروں سے اوجھل نہیں۔ یہ مسلمانوں کو بیوقوف کہتے تھے۔ ہم تمہارے پاس اس لئے آئے ہیں۔ تاکہ تم ہی ہمارے اور اپنے بھتیجے کے درمیان فیصلہ کردو۔ ابو طالب نے رسول اللہ ﷺ کو بلوا بھیجا۔ اور کہا اے بھتیجے ! یہ تمہاری قوم تم سے ایک مطالبہ کررہی ہے۔ تم مکمل طور پر اپنی قوم پر حملہ آور مت ہوجائو۔ آپ ﷺ نے فرمایا وہ مجھ سے کیا مطالبہ کرنا چاہتے ہیں۔ سردارانِ قریش : ہمیں اور ہمارے معبودوں کو چھوڑدو۔ ہم تمہیں اور تمہارے معبود کو چھوڑ دیں گے کچھ نہ کہیں گے۔ آپ ﷺ نے کہا تم میری ایک بات مان لو جس سے تم پورے عرب پر غلبہ پالو گے۔ بلکہ عجم بھی تمہارے پیچھے چلیں گے۔ سرداران قریش نے کہا ہاں ہاں ایسی تو دس باتیں ماننے کیلئے ہم تیار، ہم مانیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا پھر تم لا الٰہ الا اللہ کہہ دو ۔ سردارانِ قریش فوراً اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے اجعل الٰالھۃ الٰھًا واحدًا۔ کیا اس نے کردیا ایک معبود ! ان ھذا لشیٔ عجاب ] رواہ احمد 1/362، ترمذی 3232، الحاکم 2/432، ابن حیان 6686[۔ عجابؔ تعجب میں انتہاء کو پہنچا ہوا۔ ایک قول : عجیب وہ جس کی کوئی مثال ہو۔ عجاب۔ جس کی عجیب ہونے میں کوئی مثال نہ ہو۔
Top