Madarik-ut-Tanzil - Saad : 76
قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ١ؕ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ
قَالَ : اس نے کہا اَنَا : میں خَيْرٌ : بہتر مِّنْهُ ۭ : اس سے خَلَقْتَنِيْ : تو نے پیدا کیا مجھے مِنْ نَّارٍ : آگ سے وَّخَلَقْتَهٗ : اور تو نے پیدا کیا اسے مِنْ : سے طِيْنٍ : مٹی
بولا کہ میں اس سے بہتر ہوں (کہ) تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے بنایا
بڑائی کا دعویٰ : 76: قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَہٗ (کہنے لگا میں اس سے بہتر ہوں آپ نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور) مِنْ طِیْنٍ (اس کو خاک سے پیدا کیا) یعنی اگر وہ آگ سے پیدا ہوا ہوتا تو ضرور اس کو بھی سجدہ نہ کرتا۔ اس لئے کہ وہ میری طرح کی مخلوق ہے پس میں اس کو کیسے سجدہ کرسکتا ہوں جو مجھ سے کم درجہ ہے ؟ کیونکہ وہ مٹی سے بنا ہے اور آگ مٹی پر غالب ہے اور اس کو کھا جاتی ہے۔ : دوسرا جملہ پہلے کیلئے اسی طرح لایا گیا جیسے عطف بیان اپنے معطوف علیہ کیلئے ہوتا ہے۔ اور دوسرا جملہ خلقتنی من نار ہے۔
Top