Madarik-ut-Tanzil - Saad : 77
قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۚۖ
قَالَ : اس نے فرمایا فَاخْرُجْ : پس نکل جا مِنْهَا : یہاں سے فَاِنَّكَ : کیونکہ تو رَجِيْمٌ : راندہ درگاہ
فرمایا یہاں سے نکل جا تو مردود ہے
77: قَالَ فَاخْرُجْ مِنْہَا (اللہ تعالیٰ نے فرمایا تو اس سے نکل) ھ اسے مراد جنت۔ نمبر 2۔ یا آسمان۔ نمبر 3۔ اس خلقت سے جس میں تو تھا کیونکہ وہ اپنی خلقت پر فخر کرنے لگا تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کی خلقت کو بدل دیا۔ سفید رنگت سے سیاہ ہوگیا خوبصورت سے بد صورت اور نورانی سے ظلمانی بن گیا۔ فَاِنَّکَ رَجِیْمٌ (بیشک تو مردود ہے) دھتکارا ہوا ہے۔ ابلیس نے مٹی سے پیدا ہونے والی چیز کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا اور پھسل گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا انہوں نے تعمیل میں ذرا توقف نہ کیا اللہ تعالیٰ کے خطاب اور حکم کی عظمت کے پیش نظر شیطان حکم الٰہی کو چھوڑ کر ملعون اور مردود ہوگیا۔
Top