Madarik-ut-Tanzil - Saad : 9
اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِیْزِ الْوَهَّابِۚ
اَمْ : کیا عِنْدَهُمْ : ان کے پاس خَزَآئِنُ : خزانے رَحْمَةِ رَبِّكَ : تمہارے رب کی رحمت الْعَزِيْزِ : غالب الْوَهَّابِ : بہت عطا کرنے والا
کیا ان کے پاس تمہارے پروردگار کی رحمت کے خزانے ہیں جو غالب اور بہت عطا کرنے والا ہے
9: اَمْ عِنْدَھُمْ خَزَآپنُ رَحْمَۃِ رَبِّکَ الْعَزِیْزِ الْوَھَّابِ (کیا ان کے پاس آپ کے پروردگار فیاض کی رحمت کے خزانے ہیں) یعنی وہ خزائن رحمت کے مالک نہیں تاکہ وہ جس کو چاہیں بانٹ دیں۔ یا ان کو خرچ کر ڈالیں جن پر پسند کریں اور بعض سرداروں کو نبوت کیلئے منتخب کریں اور اس سے محمد (ﷺ) سے اونچے ہوجائیں بلاشبہ جو رحمت اور اس کے خزائن کا مالک ہے وہ غالب اور اپنی مخلوق پر زبردست ہے۔ الوہابؔ بہت عطاء کرنے والا۔ اور مواقع پر عطا یا پہنچانے والا وہ عطاء جس کو اپنی حکمت کے تقاضوں سے تقسیم کرتا ہے۔ پھر اسی معنی پر ترشیح کرتے ہوئے فرمایا۔
Top