Mafhoom-ul-Quran - Yaseen : 22
وَ مَا لِیَ لَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ
وَمَا : اور کیا ہوا لِيَ : مجھے لَآ اَعْبُدُ : میں نہ عبادت کروں الَّذِيْ : وہ جس نے فَطَرَنِيْ : پیدا کیا مجھے وَاِلَيْهِ : اور اسی کی طرف تُرْجَعُوْنَ : تم لوٹ کر جاؤ گے
اور مجھے کیا ہے کہ میں اس کی عبادت نہ کروں کہ جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے۔
قوم موسیٰ سے ایک مومن کا تذکرہ اور رسولوں کی تکذیب کرنیوالوں پر افسوس تشریح : ان آیات میں بھی انسانی فطرت کا بیان ہے کہ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا برگز یدہ بندہ تھا سیدھا جنت میں گیا۔ اب یہاں سے ایک نکتہ نکلتا ہے۔ کیونکہ مسلمان کو تو عالم برزخ کے بعد جنت میں جانا ہوگا۔ یہاں شہید کی فضیلت ظاہر کی گئی ہے۔ کیونکہ حدیث میں آیا ہے : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے۔ ” قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہوتی ہے یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا “۔ یوں ثابت ہوگیا کہ عالم برزخ تو ضروری ہے۔ اسی لئے تو مسلمان باقی دعاؤں کے ساتھ قبر کے عذاب سے بھی پناہ مانگتا ہے۔ اصل میں اس قبر کے قیام کی بھی اتنی حالتیں ہوتی ہیں۔ نیک انسان اس سونے کی مدت کو پر سکون پر آسائش اور بہترین خوابوں کی صورت میں انجوائے کرتا ہے۔ جبکہ درمیانہ نیک بندہ نیند میں رہتا ہے پرسکون نیند میں اور بد انسان اس نیند میں خوفناک خوابوں سے اسی طرح بےسکون رہتا ہے جیسا کہ کوئی نائٹ میئر ( ڈراؤ نے خواب) سے خوفزدہ اور بےچین ہوجاتا ہے۔ ہم پھر گاؤں والوں کی طرف آتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ کا دستور ہے وہ اپنے بندوں کو مہلت دیتا ہے کہ سدھر جائیں۔ ان کو بھی ہدایت دی گئی مہلت دی گئی مگر وہ نہ سمجھے تو پھر ان کی سزا کا وقت آگیا۔ ایک زور دار آواز اٹھی (دھماکہ ہوا) اور سب لوگ برداشت نہ کرسکے اور اللہ کے حکم سے سب کے سب مرگئے۔ اللہ نے فرمایا کہ ایسے کاموں کے لیے ہم آسمان سے فوج نہیں اتارا کرتے۔ بس ایک چنگھاڑ تھی پھر اسی دم سب بجھ کر رہ گئے۔ (یس آیات : 29-28) ان آیات سے کئی سبق ملتے ہیں۔ پہلا : یہ کہ انسان کی حیثیت بڑی ناپائیدار ہے اس لحاظ سے کہ کفر وشرک میں اور اللہ کی دی ہوئی نعمتوں میں اسقدر اکڑ خوں ہوجاتا ہے کہ اپنے پیدا کرنے والے کو ہی بھول جاتا ہے۔ تو جب اللہ کا عذاب آتا ہے تو صرف ایک کڑک ہی سب کو ختم کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ دوسرا : مبلغ کے کچھ اوصاف بتائے گئے ہیں۔ پہلا۔ بلامعاوضہ رشد و ہدایت، درس و تدریس اور تبلیغ کا کام پوری کوشش سے کرے دوسرا یہ کہ وہ خود بھی ہدایت یافتہ ہو۔ یعنی ہر لحاظ سے عملی، اخلاقی اور روحانی طور پر انتہائی متقی انسان ہو۔ آخر میں اللہ تعالیٰ ان نافرمان لوگوں پر افسوس کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بعد میں آنے والے لوگوں کو ان نافرمان لوگوں کی تباہی و بربادی سے سبق سیکھنا چاہیے اور ایک حقیقت واضح کردی کہ جو مرگیا وہ دوبارہ اس دنیا میں ہرگز کسی صورت واپس نہیں آسکتا۔ ہاں البتہ یہاں سے رخصت ہونے والے تمام لوگ حشر کے میدان میں اکٹھے اللہ کے حضور ضرور پیش ہوں گے۔ آیت 32 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ ” اور ان میں سے کوئی نہیں جو اکٹھے ہمارے پاس پکڑے ہوئے نہ آئیں۔ “
Top