Mafhoom-ul-Quran - Saad : 27
وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا بَاطِلًا١ؕ ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنَ النَّارِؕ
وَ : اور مَا خَلَقْنَا : نہیں پیدا کیا ہم نے السَّمَآءَ : اور زمین وَالْاَرْضَ : اور زمین وَمَا : اور جو بَيْنَهُمَا : ان کے درمیان بَاطِلًا ۭ : باطل ذٰلِكَ : یہ ظَنُّ : گمان الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۚ : جن لوگوں نے کفر کیا فَوَيْلٌ : پس خرابی ہے لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا : ان کے لیے جنہوں نے کفر کیا (کافر) مِنَ : سے النَّارِ : آگ
اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کائنات میں ہے اس کو بےمقصد پیدا نہیں کیا۔ یہ ان کا گمان ہے جو کافر ہیں سو کافروں کے لیے دوزخ کی آگ سے ہلاکت ہے
کوئی چیز بےمقصد نہیں ہے تشریح : ان آیات میں بڑی پتے کی باتیں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو سمجھا رہا ہے۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا کی زندگی بس ایک کھیل تماشہ ہے کھاؤ پیوعیش کرو اور بس مرجاؤ۔ تو ایسے لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس دنیا میں ہر چیز ہر کام کا دوسرے کے ساتھ تعلق ہے اسی طرح اس دنیا کا دوسری دنیا کے ساتھ تعلق ہے۔ اصل میں یہ دنیا خاتمہ کا نام نہیں بلکہ ایک دوسری دنیا کے شروع ہونے کا نام اور ذریعہ ہے۔ جب ہماری زندگی کی ابتدا ہوتی ہے تو ایک انتہائی باریک سپرم کے اندر ہماری پوری زندگی کا ٹائم ٹیبل لکھ کر رکھ دیا جاتا ہے۔ اس کو تقدیر کہتے ہیں۔ یہ تقدیر دراصل امتحانی پرچہ ہوتا ہے جو ہم نے اس دنیا میں رہنے کے دوران حل کرنا ہوتا ہے مثلا ہماری تقدیر میں لکھ دیا گیا ہے کہ ہم غریب زندگی گزاریں گے تو دیکھا یہ جائے گا کہ اس غربت کی زندگی کو ہم نے صبر شکر کرتے ہوئے انتہائی نیک راہوں پر چلتے ہوئے، اللہ و رسول کے تمام احکامات پورا کرتے ہوئے اللہ کی رضا پر خوش ہو کر مطمئن زندگی گزارتے ہیں یا کہ ہر وقت اپنی غربت پر جلتے ہوئے اللہ کا شکوہ کرتے ہوئے دوسروں کو دیکھ کر حسدبغض اور نفرت کی آگ میں جلتے ہوئے زندگی گزارتے ہیں یا پھر غربت کو دور کرنے کے لیے غلط اور ناجائز راستے اختیار کرتے ہوئے زندگی گزارتے ہیں کتنا بڑا امتحان ہے یہ جو ہم دے رہے ہوں گے۔ اسی طرح اگر ہم امیر پیدا کیے جائیں تو بھی ہماری زندگی کا ہر عمل امتحان ہوگا۔ وہ اس طرح یہ دیکھا جائے گا کہ کیا ہم اس دولت و عزت کو اللہ کی نعمت سمجھ کر شکر ادا کرتے رہتے ہیں یا کہ اپنا کمال سمجھ کر نخوت اور غرور میں آجاتے ہیں اپنے سے کمتر لوگوں کو حقیر سمجھ کر بجائے ان کی مدد کرنے کے ان سے نفرت کرتے ہیں اور ان سے بات کرنا بھی اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں۔ یا کہ انتہائی عاجزی و انکساری کے ساتھ اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اللہ کے اس دیئے ہوئے مال و دولت کو اس کے مقرر کردہ احکامات کے مطابق خرچ کرتے ہیں اور انتہائی سادگی، سکون، محبت اور عبادت گزاری کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ اس طرح ہماری زندگی کا ہر لمحہ امتحانی پرچہ حل کرنے میں گزر جاتا ہے۔ اب اس پرچہ کا لینا کیا بےمقصد ہے ؟ ہرگز نہیں اللہ بڑا انصاف کرنے والا ہے۔ بھلا نیک و بد کو انعام اور سزا کیوں نہ دی جائے۔ بس اسی نتیجہ کے لیے اللہ تعالیٰ نے دوسری زندگی کا بندوبست کیا ہے اور یہی مقاصد ہیں ہماری دنیا کی زندگی اور آخرت کی زندگی کے۔ اس دنیا میں تو ایک ذرہ بھی بےمقصد پیدا نہیں کیا گیا انسان تو بہت بڑی مخلوق ہے۔ اس کی زندگی بےمقصد کیسے ہوسکتی ہے۔ دنیا میں بھی ہمیں ظلم و ناانصافی کا بدلہ مل جاتا ہے مگر بعض اوقات یہاں بظاہر ظالم کو ظلم کا بدلہ نہیں ملتا۔ تو کیا اللہ کا یہی انصاف ہے کہ ظالم و مظلو م، کافر و مومن، نیک اور بد، شریف اور خبیث سب برابر ہوجائیں ؟ ایسا نہیں ہوسکتا اللہ کا بڑا زبردست انتظام ہے اور وہ بڑا زبردست انصاف کرنے والا ہے۔ جو یہاں بدلہ پانے میں بچ جاتے ہیں ان کو آخرت میں بڑا زبردست بدلہ پانا ہوگا۔ وہاں کوئی بھی بچ نہ سکے گا۔ سب کی زبردست پوچھ گچھ ہوگی۔ یہی مقصد ہے اس دنیا کی زندگی کا اور پھر آخرت کی زندگی کا۔ اب قرآن کا مقصد بھی سن لیں۔ اس میں زندگی کے متعلق ہر نکتہ، ہر مسئلے کا حل اور ہر اونچ نیچ بڑی وضاحت سے بتا دی گئی ہے۔ جو لوگ اس میں تدبر اور تفکر سے کام لیتے ہیں وہی کامیاب ہیں۔ اب تھوڑا تدبر اور تفکر کو سمجھ لیا جائے۔ تدبر کا مطلب یہ ہے کہ ایک عام انسان جب قرآن پڑھتا ہے تو اس کو عبادت میں ایک خاص حسن، جامعیت، معقولیت اور ربط و ضبط نظر آتا ہے تو سمجھتا ہے کہ یہ کلام کسی خاص ہستی کا ہے جو انسانی خصوصیات سے بہت ہی بلند وبالا ہے۔ وہ کلام کو پڑھتا ہے اور جھوم جھوم جاتا ہے یہ تو ایک انسان کا عام طریقہ سے پڑھنے کا نتیجہ ہے لیکن یہی کام جب ایک مفکر یا عالم دین یا فلسفی کرتا ہے تو اس کا کام ذرا مختلف ہوتا ہے۔ وہ یوں کہ وہ عربی زبان سے واقفیت رکھتا ہے۔ علوم قرآن اور مقاصد قرآن سے اگاہی رکھتا ہے۔ اسلام سے واقفیت اور پابندی کا قائل ہوتا ہے۔ اخلاقی لحاظ سے بہت بلند ہوتا ہے۔ قرآن کی عظمت، پاکیزگی اور مفہوم کی باریکیوں سے واقف ہوتا ہے اور وہ شخص روحانی اور عملی زندگی میں ایک متقی، پاکیزہ اور بلند مرتبہ رکھنے والا انسان ہوتا ہے ایسا مفکر عالم دین جب قرآن پڑھتا ہے تو اس کی باریکیوں اور بہترین مقاصد کو خوب اچھی طرح سمجھ کر آسان الفاظ میں اس کو لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے تو یوں تدبر کا مطلب واضح ہوجاتا ہے۔ اب باری آتی ہے لفظ تذکر کی۔ تذکر کو ہم دو طرح واضح کرسکتے ہیں۔ تذکر کا مطلب ہے یاد کرنا۔ یہ بڑی عام سی بات ہے۔ کسی مضمون کو ہم غور سے پڑھتے ہیں تو جتنی دفعہ پڑھتے ہیں اس کا مطلب زیادہ سے زیادہ واضح ہوتا چلا جاتا ہے اور اس کی باریکیاں ذہن میں بیٹھنی شروع ہوجاتی ہیں اور جب ایک بات ذہن کے اندر بیٹھ جاتی ہے تو اس پر عمل بھی خود بخود ہونے لگتا ہے۔ اور اس طرح قرآن کے احکامات ہماری زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں اور یوں ہم ایک سچے مسلمان کا درجہ حاصل کرلیتے ہیں۔ تذکر کا مطلب ہے نصیحت کرنا۔ اس سے قرآن کے مفہوم کو دوسروں تک پہنچانا مقصد ہے۔ یہ ذریعہ اس قدر بہترین ہے کہ جب ہم کوئی بات یا علم دوسرے کو سکھاتے ہیں تو یقینی طور پر مضمون کے اندر کچھ اور چھپے ہوئے نکات ہمارے سامنے ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ اس طرح نصیحت کرنے والے کے اپنے علم میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ یعنی درس و دتدیس ہمارے ذہن کو اور بھی مضبوط اور وسیع کرتے ہیں اور جو پیغام ہم دوسروں کو دیتے ہیں تو اس کے لیے زبان اور الفاظ زیادہ مستحکم اور معقول ہوتے چلے جاتے ہیں یوں قرآن کے احکامات ہماری زندگی کے اندر جذب ہوجاتے ہیں اور ہم بےاختیار ان کو اپنی عملی زندگی میں لانا شروع کردیتے ہیں اور جس قدر خود ہم ان کو اپنا کر نصیحت کرتے ہیں اسی قدر زیادہ ہماری نصیحت میں اثر پیدا ہونے لگتا ہے۔ جیسا کہ مثل مشہور ہے کہ ” اگر کسی کو گڑ کھانے سے منع کرنا ہو تو پہلے خود گڑ کھانا بند کرو۔ “
Top