Madarik-ut-Tanzil - Al-Maaida : 23
وَ ابْتَلُوا الْیَتٰمٰى حَتّٰۤى اِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ١ۚ فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوْۤا اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ١ۚ وَ لَا تَاْكُلُوْهَاۤ اِسْرَافًا وَّ بِدَارًا اَنْ یَّكْبَرُوْا١ؕ وَ مَنْ كَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ١ۚ وَ مَنْ كَانَ فَقِیْرًا فَلْیَاْكُلْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ فَاِذَا دَفَعْتُمْ اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ فَاَشْهِدُوْا عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا
وَابْتَلُوا : اور آزماتے رہو الْيَتٰمٰى : یتیم (جمع) حَتّٰى : یہانتک کہ اِذَا : جب بَلَغُوا : وہ پہنچیں النِّكَاحَ : نکاح فَاِنْ : پھر اگر اٰنَسْتُمْ : تم پاؤ مِّنْھُمْ : ان میں رُشْدًا : صلاحیت فَادْفَعُوْٓا : تو حوالے کردو اِلَيْھِمْ : ان کے اَمْوَالَھُمْ : ان کے مال وَلَا : اور نہ تَاْكُلُوْھَآ : وہ کھاؤ اِسْرَافًا : ضرورت سے زیادہ وَّبِدَارًا : اور جلدی جلدی اَنْ : کہ يَّكْبَرُوْا : کہ وہ بڑے ہوجائینگے وَمَنْ : اور جو كَانَ : ہو غَنِيًّا : غنی فَلْيَسْتَعْفِفْ : بچتا رہے وَمَنْ : اور جو كَانَ : ہو فَقِيْرًا : حاجت مند فَلْيَاْكُلْ : تو کھائے بِالْمَعْرُوْفِ : دستور کے مطابق فَاِذَا : پھر جب دَفَعْتُمْ : حوالے کرو اِلَيْھِمْ : ان کے اَمْوَالَھُمْ : ان کے مال فَاَشْهِدُوْا : تو گواہ کرلو عَلَيْھِمْ : ان پر وَكَفٰى : اور کافی بِاللّٰهِ : اللہ حَسِيْبًا : حساب لینے والا
جو لوگ (خدا سے) ڈرتے تھے ان میں سے دو شخص جن پر خدا کی عنایت تھی کہنے لگے کہ ان لوگوں پر دروازے کے راستے سے حملہ کردو۔ جب تم دروازے میں داخل ہوگئے تو فتح تمہاری ہے۔ اور خدا ہی پر بھروسا رکھو بشرطیکہ صاحب ایمان ہو۔
آیت 23 : قَالَ رَجُلٰنِ (ان دو شخصوں نے کہا) رجلان سے مراد کالب اور یوشع ہیں۔ مِنَ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ (ان لوگوں میں سے جو اللہ تعالیٰ کا ڈر اور خوف رکھتے تھے) گویا اس طرح کہا کہ دو متقی مردوں نے کہا۔ نحو : یہ محل رفع میں رجلان کی صفت ہے اس طرح انعم اللّٰہ علیہما بھی۔ غلبے کا وعدہ : اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمَا (جن پر اللہ تعالیٰ نے (اپنے سے ڈرنے کا) انعام فرمایا تھا۔ ادْخُلُوا عَلَیْہِمُ الْبَابَ (تم ان کے شہر کے دروازہ میں داخل ہوجائو) فَاِذَا دَخَلْتُمُوْہُ فَاِنَّکُمْ غٰلِبُوْنَ (جو نہی تم اس میں داخل ہوگے تم غالب آجائو گے) اور وہ شکست کھا جائیں گے۔ اور غلبہ تمہیں حاصل ہوجائے گا۔ یہ بات انہوں نے موسیٰ ( علیہ السلام) کے اطلاع دینے سے معلوم کی۔ وَعَلَی اللّٰہِ فَتَوَکَّلُوْٓا اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ( اور اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرو اگر تم مومن ہو) اس لئے کہ اس پر ایمان اس پر توکل کا تقاضا کرتا ہے۔ توکل کی حقیقت علائق دنیوی کو قطع کرنا۔ اور مخلوقات سے تعلق کا توڑنا اور اللہ تعالیٰ سے جوڑنا۔
Top