Tafseer-e-Majidi - Al-Kahf : 34
وَّ كَانَ لَهٗ ثَمَرٌ١ۚ فَقَالَ لِصَاحِبِهٖ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَنَا اَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا وَّ اَعَزُّ نَفَرًا
وَّكَانَ : اور تھا لَهٗ : اس کے لیے ثَمَرٌ : پھل فَقَالَ : تو وہ بولا لِصَاحِبِهٖ : اپنے ساتھی سے وَهُوَ : اور وہ يُحَاوِرُهٗٓ : اس سے باتیں کرتے ہوئے اَنَا اَكْثَرُ : زیادہ تر مِنْكَ : تجھ سے مَالًا : مال میں وَّاَعَزُّ : اور زیادہ باعزت نَفَرًا : آدمیوں کے لحاظ سے
اور اس (شخص) کے پاس (اور بھی) تمول تھا،51۔ سو اس نے اپنے (اس) ساتھی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں تجھ سے مال میں بھی زیادہ ہوں اور مجمع میں بھی غالب،52۔
51۔ باغ بھی ایسے کہ پوری پوری فصل دینے والے، کسی میں کوئی نقصان اور کمی نہیں اور پڑوس میں دریا۔ کھیتی کی سرسبزی اور باغ کی شادابی کے سامان ہر طرح کے بہ افراط اور عام دولتمندی اس پر مستزاد۔ مادی فراغت وخوش نصیبی اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگی۔ (آیت) ” ثمر “۔ ثمر کے معنی علاوہ اپنے مشہور معنی کے، دولت کے بھی ہیں۔ ویکنی بہ عن المال المستفاد (راغب) ومن المخار الثمر انواع المال (تاج) اور یونہی معنی یہاں مراد ہیں۔ اے انواع من المال من ثمر اذا کثر (کشاف) عن مجاھد الذھب والفضۃ اے کان لہ مع الجنتین اشیاء من لمنقود (کبیر۔ عن مجاہد) یراد بھما الذھب والفضۃ خاصۃ (بحر۔ عن مجاہد) 52۔ (درآنحالیکہ تو توحید کا قائل ہے اور اپنے کو اہل حق سے قرار دیتا ہے) کہنے والے کا مطلب یہ ہے کہ میرا طریقہ اگر خلاف حق اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ناپسندیدہ ہوتا تو آج میں اس مرفہ خالی میں کیوں ہوتا ؟ بلکہ اس سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ میرا مسلک صحیح اور تیرا مذہب غلط ہے۔ (آیت) ” نفرا “۔ یعنی جتھے اور مجمع کے لحاظ سے بھی، یعنی انصار وحشما وقیل اولادا ذکورا (کشاف) (آیت) ” لصاحبہ “۔ اس ملحد کا یہ رفیق موھد و دیندار تھا۔
Top