Siraj-ul-Bayan - Maryam : 69
وَ قَالَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا لَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّاَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوْا مِنَّا١ؕ كَذٰلِكَ یُرِیْهِمُ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ حَسَرٰتٍ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنَ النَّارِ۠   ۧ
وَقَالَ : اور کہیں گے الَّذِيْنَ : وہ جنہوں نے اتَّبَعُوْا : پیروی کی لَوْ اَنَّ : کاش کہ لَنَا : ہمارے لیے كَرَّةً : دوبارہ فَنَتَبَرَّاَ : تو ہم بیزاری کرتے مِنْهُمْ : ان سے كَمَا : جیسے تَبَرَّءُوْا : انہوں نے بیزاری کی مِنَّا : ہم سے كَذٰلِكَ : اسی طرح يُرِيْهِمُ : انہیں دکھائے گا اللّٰهُ : اللہ اَعْمَالَهُمْ : ان کے اعمال حَسَرٰتٍ : حسرتیں عَلَيْهِمْ : ان پر وَمَا ھُمْ : اور نہیں وہ بِخٰرِجِيْنَ : نکلنے والے مِنَ النَّار : آگ سے
پھر ہر جماعت میں سے ہم ایسے لوگوں کو کھینچ نکالیں گے جو خدا سے سخت سرکشی کرتے تھے
69۔ ثم لننزعن، ، پھر ہم ان کو ضرور بضرور نکالیں گے۔ ” من کل شیعۃ، ، ہر امت میں سے اور کفار میں سے سب اسی میں شامل ہوں گے ، ، ایھم اشد علی الرحمن عتیا، ، بےجاغرور کو کہاجاتا ہے ، یہ اصل میں عتوا تھا، ابن عباس کا قول ہے کہ اس کا معنی جرات ہے ۔ مجاہد کا قول ہے کہ اس کا ترجمہ فجور ہے۔ کلبی کا بیان ہے کہ ان کا قائد اور ان کے سردار شریر ہوں گے، ان کو جہنم میں داخل کریں گے اور آخر میں بہت سخت ہیں، اور بعض آثار میں آیا ہے کہ وہ سب کے سب جہنم کے کنارے پر حاضر ہوں گے۔ پھر کافر پھر ان کے بعد کافر جمع کیے گئے ، (یعنی کفر کے بقدر ان کو جہنم کے باہر کھڑا کیا جائے گا) ایھم، کا معنی ، الذی، ہے ان کو کہاجاتا ہے کہ کون ہے سخت جو رحمن پر زیادہ سرکشی کرتا تھا اور بعض نے کہا کہ جملہ مستانفہ ہے۔
Top