Tafseer-e-Majidi - Saad : 17
اِصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَیْدِ١ۚ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ
اِصْبِرْ : آپ صبر کریں عَلٰي : اس پر مَا يَقُوْلُوْنَ : جو وہ کہتے ہیں وَاذْكُرْ : اور یاد کریں عَبْدَنَا : ہمارے بندے دَاوٗدَ : داؤد ذَا الْاَيْدِ ۚ : قوت والا اِنَّهٗٓ : بیشک وہ اَوَّابٌ : خوب رجوع کرنے والا
آپ ان لوگوں کے اقوال پر صبر کیجئے، اور ہمارے بندے داؤد بڑی قوت والے کو یاد کیجیے، وہ بڑے رجوع کرنے والے تھے،17۔
17۔ (اور ان کی مثال ونظیر سے صبر میں تقویت حاصل کیجئے) اس کے بعد آپ کی تقویت قلب کے لیے نو پیغمبروں کی مثالیں درج ہو رہی ہیں، ان میں سے تین کے قصے مفصل بیان ہوں گے اور چھ کا ذکر صرف اجمالا آئے گا۔ (آیت) ” ذالاید “۔ یعنی بڑی قوت والے، ہمت والے، دین وتقوی کی راہ میں بڑے بڑے مجاہدے کر ڈالنے والے، اے ذالقوۃ فی الدین المضطلع بمشاقہ وتکالیفہ (کشاف) اے ذالقوۃ علی اداء الطاعۃ والاحتراز عن المعاصی (کبیر) (آیت) ” اواب “۔ اللہ کی طرف بڑے رجوع کرنے والے۔ اواب رجاع الی مرضاۃ اللہ (کشاف) حضرت داؤد، نبی وسلطان کی قوت و حشمت ونیز زہد وتقوی پر ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن (آیت) ” عبدنا “۔ لفظ عبد کو ضمیر متکلم کی طرف مضاف کرکے قرآن مجید نے اس سے کام اظہار تخصیص وتشریف ہی کا لیا ہے۔
Top