Tafseer-e-Majidi - Saad : 22
اِذْ دَخَلُوْا عَلٰى دَاوٗدَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ۚ خَصْمٰنِ بَغٰى بَعْضُنَا عَلٰى بَعْضٍ فَاحْكُمْ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ وَ لَا تُشْطِطْ وَ اهْدِنَاۤ اِلٰى سَوَآءِ الصِّرَاطِ
اِذْ دَخَلُوْا : جب وہ داخل ہوئے عَلٰي : پر۔ پاس دَاوٗدَ : داؤد فَفَزِعَ : تو وہ گھبرایا مِنْهُمْ : ان سے قَالُوْا : انہوں نے کہا لَا تَخَفْ ۚ : خوف نہ کھاؤ خَصْمٰنِ : ہم دو جھگڑنے والے بَغٰى : زیادتی کی بَعْضُنَا : ہم میں سے ایک عَلٰي بَعْضٍ : دوسرے پر فَاحْكُمْ : تو آپ فیصلہ کردیں بَيْنَنَا : ہمارے درمیان بِالْحَقِّ : حق کے ساتھ وَلَا تُشْطِطْ : اور زیادتی (بےانصافی نہ) کریں وَاهْدِنَآ اِلٰى : اور ہماری رہنمائی کریں طرف سَوَآءِ : سیدھا الصِّرَاطِ : راستہ
داؤد کے پاس آگئے اور وہ ان سے گھبرا گئے تھے،20۔ وہ لوگ بولے آپ ڈریے نہیں،21۔ (ہم) دو اہل مقدمہ ہیں کہ ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے، سو آپ ہم میں انصاف سے فیصلہ کردیجیے اور بےانصافی نہ کیجیے، اور ہمیں سیدھی راہ بتا دیجیے،22۔
20۔ (کہ یہ کیسے لوگ ہیں جو بجائے دروازہ سے آنے کے عبادت خانہ کی دیوار پھاند کر آگئے ہیں، دروازہ سے پہرہ داروں نے انہیں غالبا اس لیے آنے نہیں دیا تھا کہ وہ وقت آپ کی عبادت کا تھا، مقدمات فیصل کرنے کا نہ تھا۔ (آیت) ” ففزع منھم “۔ یعنی اس مجمع کے یوں بےاجازت اور ناوقت آنے سے آپ کو قدرۃ ہر اس پیدا ہوا کہ کہیں یہ کوئی خونی اور ڈاکو تو نہیں، طبعی جذبات و کیفیات (غصہ، غم، خوف، اندیشہ وغیرہ) کے طاری ہونے کو جو لوگ مرتبہ ولایت کے منافی سمجھتے ہیں، وہ حضرات انبیاء کے ان تاثرات طبعی کی مثالوں کو سامنے رکھ لیں۔ قرآن مجید نے یہ ساری تفصیلات بلاضرورت اور بےمصلحت تھوڑے ہی بیان کردی ہیں۔ (آیت) ” الخصم “۔ خصم کا اطلاق شخص واحد اور جماعت دونوں پر ہوتا ہے۔ الخصم اسم یقع علی الواحد وعلی الجماعۃ (جصاص) اطلق علی الجماعۃ (بیضاوی) واستعمل للواحد والجمع (راغب) (آیت) ” المحراب “۔ محراب یہاں حجرہ کے معنی میں ہے۔ قیل المحراب الغرفۃ (جصاص) 21۔ (ہمارے اس طرح بےقاعدہ اور بےوقت چلے آنے سے۔ ہم دشمن نہیں دوست، خیرخواہ ہیں، آپ کی رعایا ہیں، ایک مقدمہ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں) 22۔ (صورت معاملہ سے متعلق) حضرت داؤد (علیہ السلام) نبی تو تھے ہی۔ بحیثیت حاکم وفرمانروابھی اپنے عادلانہ اور جنچے فیصلوں کے لیے خاص شہرت و امتیاز رکھتے تھے۔ (آیت) ” خصمن “۔ کے صیغہ تثنیہ سے یہ خیال نہ گزرے کہ یہ دو فرد تھے یہ دو فریق تھے، اور آج بھی مستغیث اور ملزم دونوں کا یہ عام معمول ہے کہ اپنے ساتھ کئی کئی ہمدردوں کو لے کر عدالت جایا کرتے ہیں، تسوروا، دخلوا منھم سب کے صیغہ جمع سے ظاہر ہورہا ہے کہ وہ دو نہیں کئی آدمی تھے۔ اے نحن فوجان متخا صمان (بیضاوی)
Top