Tafseer-e-Majidi - Saad : 30
وَ وَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَ١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌؕ
وَوَهَبْنَا : اور ہم نے عطا کیا لِدَاوٗدَ : داؤد کو سُلَيْمٰنَ ۭ : سلیمان نِعْمَ الْعَبْدُ ۭ : بہت اچھا بندہ اِنَّهٗٓ : بیشک وہ اَوَّابٌ : رجوع کرنے والا
اور ہم نے داؤد کو سلیمن عطا کیا، وہ بہت اچھے بندے تھے اور بہت رجوع ہونے والے تھے،31۔
31۔ (اللہ کی طرف، اور اس کے بڑے سچے پرستار اور موحد تھے، نہ کہ معاذ اللہ مشرک، جیسا کہ بائبل اور دوسرے اسرائیلی نوشتوں میں آپ کو ظاہر کیا گیا ہے) حضرت سلیمان (علیہ السلام) (990 ق ؁، م تا 930 ؁ ق، م) حضرت داؤد کے فرزند و جانشین، علاوہ پیغمبر برحق ہونے کے شام و فلسطین کے عظیم الشان بادشاہ بھی تھے۔ آپ پر مفصل حاشیہ سورة البقر (پ 1) آیت وما کفر سلیمن کے تحت میں گزر چکا ہے۔ (آیت) ” نعم العبد “ یہ وصف حضرت داؤد (علیہ السلام) کا بھی ہوسکتا ہے، لیکن ترجیح اسی قول کو ہے کہ یہ وصف حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ارشاد ہوا ہے۔ المخصوص بالمدح فی نعم العبد محذوف فقیل ھو سلیمان وقیل داؤد والاول اولی (کبیر)
Top