Tafseer-e-Majidi - Saad : 39
هٰذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِكْ بِغَیْرِ حِسَابٍ
ھٰذَا : یہ عَطَآؤُنَا : ہمارا عطیہ فَامْنُنْ : اب تو احسان کر اَوْ : یا اَمْسِكْ : روک رکھ بِغَيْرِ حِسَابٍ : حساب کے بغیر
یہ ہماری بخشش ہے سو خواہ کسی کو دو یا نہ دو تم پر کچھ حساب نہیں،38۔
38۔ یعنی تم اس سارے سازوسامان، مال وجاہ کے محض خازن یا امین نہیں ہو۔ مالک ہو اور ہر طرح تصرف کے مجاز ومختار، تم سے حساب کتاب نہ دینے پر ہوگا اور نہ نہ دینے پر۔ اے لاحساب علیک فی ذلک (مدارک) اے مھما فعلت فھو جائز لک احکم بما شئت فھو صواب (ابن کثیر) آیت سے یہ ظاہر ہوگیا کہ شریعت اسلامی میں بادشاہ ہمیشہ اور لازمی طور پر خزائن ملک کا محض امین ومتولی ہی نہیں ہوتا مالک ومختار مطلق بھی ہوسکتا ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ سالک کا بڑا سرمایہ جمیعت قلب ہے۔ اسی لیے محققین صوفیہ کو اس کا بڑا اہتمام رہتا ہے۔
Top