Tafseer-e-Majidi - Saad : 42
اُرْكُضْ بِرِجْلِكَ١ۚ هٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ
اُرْكُضْ : (زمین پر) مار بِرِجْلِكَ ۚ : اپنا پاؤں ھٰذَا : یہ مُغْتَسَلٌۢ : غسل کے لیے بَارِدٌ : ٹھنڈا وَّشَرَابٌ : اور پینے کے لیے
اپنا پاؤں زمین پر مارو یہ ٹھندا پانی ہے نہانے کا اور پینے کا،42
42۔ دعا جو غایت تضرع وابتہال کے ساتھ کی گئی تھی، قبول ہوئی، حکم ملا کہ زمین پر ٹھوکر لگاؤ، چشمہ شفا یہیں جاری ہوجائے گا، آپ اس پانی سے نہائے بھی اور اسے پیا بھی۔ بالکل اچھے ہوگئے، روایتوں میں آتا ہے کہ یہ دو چشمے تھے۔ پہلا چشمہ امراض جلدی کے حق میں شافی تھا۔ دوسرا چشمہ چند قدم آگے بڑھ کر تھا۔ اس کا پانی امراض اندرونی کے حق میں آب حیات تھا۔ (آیت) ” ارکض برجلک “۔ یہ جو ایک سخت مریض کو پیر زمین پردے پٹخنے کا حکم مل رہا ہے، اس سے (جیسا کہ تفسیر قرطبی میں نقل ہوا ہے) بعض جاہل صوفیہ نے جواز رقص نکالا ہے ! اس کے بعد کون کہہ سکتا ہے کہ دین و شریعت کے ساتھ تلاعب و تمسخر کوئی چودھویں صدی ہجری کی نئی ایجاد ہیں ایجاد ہے۔ استغفر اللہ۔
Top