Tafseer-e-Majidi - Saad : 5
اَجَعَلَ الْاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عُجَابٌ
اَجَعَلَ : کیا اس نے بنادیا الْاٰلِهَةَ : (جمع) معبود اِلٰهًا : معبود وَّاحِدًا ښ : ایک اِنَّ ھٰذَا : بیشک یہ لَشَيْءٌ : ایک شے (بات) عُجَابٌ : بڑی عجیب
ارے اس نے خداؤں کو بس ایک خدا کردیا ! بیشک یہ بڑی انوکھی بات ہے،7۔
7۔ پیغمبر برحق کا اصلی جرم ان کج فہموں کے نزدیک یہی تلقین توحید تھی، وہ کہتے تھے عالم میں قد م قدم پر توتنوع، تعدد، اختلاف ہے، اس کثرت کا مصدر وحدت کو فرض ہی کیسے کیا جاسکتا ہے ؟ رات الگ ہے، دن الگ، آگ اور شے ہے پانی اور۔ زمین الگ مخلوق ہے آسمان الگ، انمیں سے ہر ایک کے کاروبار کے لیے ایک مستقل حاکم، متصرف فرماں روا کی ضرورت ہے، اور یہی دیوی دیوتا ہیں، سب کو مٹا کر صرف ایک مؤثر حقیقی وفاعل اصلی کو ماننے کے کوئی معنی ہی نہیں۔ (آیت) ” عجاب “ عجاب مرادف ہے عجیب کا، البتہ اس میں زور عجیب سے زیادہ ہے۔ ھو العجیب الا انہ ابلغ من العجیب (کبیر) اے بلیغ فی العجب (روح)
Top