Tafseer-e-Majidi - Saad : 58
وَّ اٰخَرُ مِنْ شَكْلِهٖۤ اَزْوَاجٌؕ
وَّاٰخَرُ : اور اس کے علاوہ مِنْ شَكْلِهٖٓ : اس کی شکل کی اَزْوَاجٌ : کئی قسمیں
اور اور بھی اس کی جنس سے طرح طرح کی چیزیں،54۔
54۔ یعنی ایسی ہی ناگوار وموجب آزار چیزیں فقرہ کی ترکیب اصل قاعدہ نحوی کے اعتبار سے یوں ہوگی۔ ھذا حمیم وغساق فلیذوقوہ۔ (آیت) ” غساق “۔ اس کا ترجمہ پیپ قول اکثریت کے مطابق درج کردیا گیا۔ لیکن اس کے ایک معنی ناقبال برداشت حد تک سرد کے بھی ہیں۔ غساق الزمھریر (ابوالبقاء) اور چونکہ معا قبل ذکر حمیم (انتہائی گرم) کا آچکا ہے، اس لئے یہاں چسپاں بھی انتہائی سرد، کے معنی زیادہ صحیح معلوم ہوتے ہیں۔ ؛ چناچہ ابن جریر نے بھی اس معنی کا ذکر کیا ہے، اور بعض تابعین سے بھی اس کو نقل کیا ہے۔ ھو البارد الذی لایستطاع من بردہ (ابن جریر) بارد لایستطاع اوبرد لایستطاع (ابن جریر۔ عن مجاہد) ابرد البرد (ابن جریر۔ عن ضحاک) گویا یہ دونوں صفات پانی ہی کی بیان ہوئیں کہ یا تو وہ انتہائی گرم اور یا انتہائی سرد، غرض دونوں صورتوں میں ایک ناقابل برداشت عذاب۔ قیل الحمیم یحرق بحرہ والغساق یحرق ببردہ (کشاف) قال مجاھد ومقاتل ھو الثلج البارد الذی قد انتھی بردہ وقال غیرھما انہ یحرق ببردہ کمایحرق الحمیم بحرہ (قرطبی) اور عجب نہیں کہ گرمی اور سردی کی ان انتہائی صورتوں کے لانے سے اشارہ اہل جہنم کی دنیا میں عادات افراط وتفریط کی جانب ہو۔ (آیت) ” ازواج “۔ یہاں اجناس کے معنی میں ہے۔ اے اجناس (کشاف) اے اصناف والوان من العذاب (قرطبی) (آیت) ” من شکلہ “۔ یعنی اس ناقابل برداشت مشروب یا اس عذاب شدید وناقابل برداشت ہی کی طرح۔ اے من مثل ھذا المذوق اوالعذاب فی الشدۃ والفظاعۃ (روح) شکلہ۔ ضمیر حمیم وغساق کے مجموعہ کی جانب ہے، اور اس لئے بجائے تثنیہ کے واحد ہے۔
Top