Tafseer-e-Majidi - Saad : 6
وَ انْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ اَنِ امْشُوْا وَ اصْبِرُوْا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمْ١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ یُّرَادُۖۚ
وَانْطَلَقَ : اور چل پڑے الْمَلَاُ : سردار مِنْهُمْ : ان کے اَنِ : کہ امْشُوْا : چلو وَاصْبِرُوْا : اور جمے رہو عَلٰٓي اٰلِهَتِكُمْ ښ : اپنے معبودوں پر اِنَّ ھٰذَا : بیشک یہ لَشَيْءٌ : کوئی شے (بات) يُّرَادُ : ارادہ کی ہوئی (مطلب کی)
ان لوگوں کے سردار یہ کہتے ہوئے چلے کہ چلو اور اپنے دیوتاؤں پر قائم رہو اس میں بیشک اس شخص کا کوئی مطلب ہے،8۔
8۔ یہ شخص بھی بہکا کر اپنا کوئی نہ کوئی کام ہم سے نکالنا چاہتا ہے۔ لوگ ہرگز اس کے کہے میں نہ آنا۔ اپنے دیوتاؤں کی نصرت میں لگے رہنا، قریش کے ائمہ وسردار کبھی کبھی رسول اللہ ﷺ کی تقریر سننے کھڑے ہوجاتے تو اس کے بعد ذکر توحید کی تاب نہ لا کر اپنے پیرو وں سے یہ کہنے لگتے۔
Top