Tafseer-e-Majidi - Saad : 7
مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِی الْمِلَّةِ الْاٰخِرَةِ١ۖۚ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا اخْتِلَاقٌۖۚ
مَا سَمِعْنَا : ہم نے نہیں سنا بِھٰذَا : ایسی فِي : میں الْمِلَّةِ : مذہب الْاٰخِرَةِ ښ : پچھلا اِنْ : نہیں ھٰذَآ : یہ اِلَّا : مگر۔ محض اخْتِلَاقٌ : من گھڑت
ہم نے تو یہ بات (اپنے) پچھلے مذہب میں (کبھی) سنی نہیں، ہو نہ ہو یہ اس کی گڑھت ہے،9۔
9۔ (آیت) ” ملۃ الاخرۃ “۔ سے مراد وہی ملت عرب ہے، یعنی ہم نے کبھی اپنے پیروں کے مذہب، اپنے باپ دادوں کے دین میں تو یہ عقیدہ پایا نہیں۔ دوسرے معنی ” آخری مذہب “ کے دین عیسوی کے بھی کیے گئے ہیں، یہ تفسیر بھی چسپاں ہوسکتی ہے، نصاری اپنے نقطہ نظر سے بالکل صحیح طور پر کہہ سکتے تھے، کہ یہ توحید خالص جس کی دعوت اسلام دے رہا ہے ہم نے تو کہیں آبائے کلیسا سے سنی نہیں تھی ؟
Top