Tafseer-e-Majidi - Saad : 72
فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ
فَاِذَا : پھر جب سَوَّيْتُهٗ : میں درست کردوں اسے وَنَفَخْتُ : اور میں پھونکوں فِيْهِ : اس میں مِنْ : سے رُّوْحِيْ : اپنی روح فَقَعُوْا : تو تم گر پڑو لَهٗ : اس کے لیے ( آگے) سٰجِدِيْنَ : سجدہ کرتے ہوئے
گیلی مٹی سے، پھر جب میں اسے پورا بنا چکوں اور اس میں اپنے (طرف سے) جان ڈال دوں تو تم اس کے روبرو سجدہ میں گر پڑنا۔63۔
63۔ خلق آدم، گفتگوئے ملائکہ وغیرہ پر تفصیلی حاشیے سورة البقرہ (پ 1) میں گزر چکے اور اس کے بعد بھی سورة الاعراف وغیرہ میں۔ (آیت) ” سجدین “۔ سجدہ کے معنی یہاں بطور تواضع محض کے بھی کیے گئے ہیں، اور سجدۂ تعظیمی کے بھی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ سجدہ اللہ تعالیٰ ہی کے لیے تھا۔ قیل کان انحناء یدل علی التواضع وقیل کا سجدۃ للہ اوکان سجدۃ التحیۃ (مدارک) (آیت) ” من روحی “۔ میں اضافت یا تو تملی کی ہے، یعنی ہماری مملوک و مخلوق خاص یا اضافت تشریفی، یعنی وہ روح جو ہماری نسبت سے مکرم ومشرف ہے۔ یا تخصیصی، یعنی وہ زندگی یا جان جس میں ہمارے سوا کوئی دوسرا تعلق نہیں امام رازی (رح) نے کہا ہے کہ من روحی میں اللہ نے روح کو اپنی جانب نسبت دے کر اس امر کو ظاہر کردیا ہے کہ روح ایک جو ہر شریف ومعظم ہے۔ ولما اضاف الروح الی نفسہ دل علی ان جوھر شریف علوی قوی (کبیر) امام رازی (رح) نے یہ بھی لکھا ہے کہ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ خلقت انسانی کی تکمیل دوامور پر موقوف ہے، پہلے تسویہ جسد اور پھر نفخ روح پر۔ (آیت) ” من طین “۔ خلق آدم کا مادہ کہیں طین آیا ہے کہیں تراب کہیں صلصال من حما مسنون اور ان میں کچھ تعارض نہیں، کہیں مادۂ قریبہ بتلادیا کہیں مادہ بعیدہ “ (تھانوی (رح) المادۃ البعیدۃ ھو التراب واقرب منہ الطین واقرب منہ الحمأ المسنون واقرب منہ الصلصال فثبت انہ لامنافاۃ بین الکل (کبیر) توریت میں ہے :” اور خداوند خدا نے زمین کی خاک سے آدم کو بنایا اور اس کے نتھنوں میں زندگی کا دم پھونکا۔ سو آدمی جیتی جان ہوا “۔ (پیدائش 2: 7)
Top