Tafseer-e-Majidi - Saad : 75
قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ١ؕ اَسْتَكْبَرْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِیْنَ
قَالَ : اس نے فرمایا يٰٓاِبْلِيْسُ : اے ابلیس مَا مَنَعَكَ : کس نے منع کیا تجھے اَنْ تَسْجُدَ : کہ تو سجدہ کرے لِمَا : اس کو جسے خَلَقْتُ : میں نے پیدا کیا بِيَدَيَّ ۭ : اپنے ہاتھوں سے اَسْتَكْبَرْتَ : کیا تو نے تکبر کیا اَمْ كُنْتَ : یا تو ہے مِنَ : سے الْعَالِيْنَ : بلند درجہ والے
(اللہ نے) فرمایا اے ابلیس تجھے کس چیز نے اس کے رو برو سجدہ کرنے سے روکا سے میں نے اپنے دست خاص سے بنایا،65۔ کیا تو غرور میں آگیا یا یہ کہ تو واقعی بڑے درجہ والوں میں سے ہے،66۔
65۔ یعنی اس کی ایجاد کی طرف خاص عنایت ربانی متوجہ ہوئی، یہ تو اس کا شرف فی نفسہ ہوا۔ اور پھر اس کے روبرو سجدہ کرنے کا حکم بھی مل چکا (تھانوی (رح) (آیت) ” بیدی “۔ ید کے معنی یہاں قدرت کے بھی کیے گئے ہیں اور نعمت کے بھی، امام رازی (رح) نے کہا ہے کہ جب کوئی سلطان اعظم کسی عمل کو اپنے دست خاص کی جانب منسوب کرتا ہے تو اس سے اس کی مراد عنایت خاص ہوتی ہے، تخلیق آدم براہ راست اور بلاواسطہ بھی مراد ہوسکتی ہے۔ قیل لما خلقت بغیر واسطۃ (قرطبی) یدی کے صیغہ تثنیہ کی توجیہ میں بعض صوفیہ نے کہا ہے کہ مراد صفات جمال و جلال ہیں، اور یہ ام الصفات ہیں، صفات لطف وقہر ہی کی ایک تعبیر قوائے ملکوتی وقوائے حیوانی سے بھی کی جاسکتی ہے۔ 66۔ (جسے سجدے کا حکم ملنا ہی نہ تھا) (آیت) ” استکبرت “۔ استکبار سے مراد یہ ہے کہ واقع میں تو بڑا نہیں تھا۔ لیکن اپنے کو بڑا سمجھ لیا۔
Top