Tafseer-e-Majidi - Saad : 76
قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ١ؕ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ
قَالَ : اس نے کہا اَنَا : میں خَيْرٌ : بہتر مِّنْهُ ۭ : اس سے خَلَقْتَنِيْ : تو نے پیدا کیا مجھے مِنْ نَّارٍ : آگ سے وَّخَلَقْتَهٗ : اور تو نے پیدا کیا اسے مِنْ : سے طِيْنٍ : مٹی
وہ بولا میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اسے تو نے گیلی مٹی سے بنایا،67۔
67۔ (اور آگ اس کے مقابلہ میں عالی ولطیف ہے، تو سافل وکثیف کے روبرو عالی ولطیف کیسے جھکے ؟ ) ابلیس احمق اتنا نہ سمجھا کہ اول تو مٹی پر آگ کی ہر جہتی افضیلت واشرفیت ہی مسلم نہیں۔ اور بالفرض ہو بھی تو کیا کسی مصلحت سے افضل کو غیر افضل، اشرف کو غیر اشرف کے آگے نہیں جھکایا جاسکتا ؟ ایک مفسر نے اس حقیقت سے یہ نکتہ خوب پیدا کیا ہے کہ ابلیس جب اتنا کج فہم ہے تو انسان کو اس سے درنا ہی کیا، بجز اس کے کہ انسان اپنی قوت ارادی سے کام نہ لے کر خود ہی اپنے کو نور عقل سے محروم کردے ! مناظرہ ابلیس حضرت حق پر اور ابلیسی منطق کی سفاہت پر حاشیے پہلے بھی گزر چکے ہیں۔
Top