Tafseer-e-Majidi - Saad : 78
وَّ اِنَّ عَلَیْكَ لَعْنَتِیْۤ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ
وَّاِنَّ : اور بیشک عَلَيْكَ : تجھ پر لَعْنَتِيْٓ : میری لعنت اِلٰى : تک يَوْمِ الدِّيْنِ : روز قیامت
اور بیشک تجھ پر میری لعنت رہے گی قیامت کے دن تک،68۔
68۔ (اور جو اس وقت تک ملعون رہا، اس کے لیے اس کے بعد مغفوریت کا احتمال ہی نہیں) (آیت) ” الی یوم الدین “۔ محاورۂ زبان میں دوام اور ہمیشگی کے اظہار کیلئے ہے۔ یہ مراد نہیں کہ قیامت کے بعد ملعونیت مغفوریت سے بدل جائے گی، ولا یظن ان لعنتہ غایتھا یوم الدین ثم تنقطع لان معناہ ان علی اللعنۃ فی الدنیا وحدھا فاذا کان یوم الدین اقترن بھا العذاب (مدارک) (آیت) ” منھا “۔ ضمیر مؤنث غائب جنت کی طرف بھی ہوسکتی ہے اور سماوات کی طرف بھی۔ اے من الجنۃ اومن السموت (مدارک)
Top